کیا اسلام مکمل نہیں؟

مسلمانوں کے پاس وسائل بڑھتے جا رہے ہیں،عربی اور اردو زبان میں کتابوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں،جس موضوع پر چاہو کتاب دستیاب ہو سکتی ہے،مگر یہ کتابت و خطابت کا اسلام ہے جسے ہمارے کردار سے ناپا جائے تو متضاد ہے،ہماری زبان پر نام اسلام کا ہے اور ہمارا وجود غیروں کے کردار کا آئینہ دار ہے،غیر مسلم دیکھتا ہے کہ مسلمان کو ہمارے کردار کی حاجت ہے وہ اپنے دین کے قانون کو باعث ترقی نہیں جانتے،اگر جانتے تو وہ مسلمان کھلانے کے باوجود کردار ہم سے کیوں لی رہے ہیں؟زبان سے ہم کہہ رہے ہیں اسلام کامل و مکمل ہے اور کردار غیر کا اپنانا بتا رہا مسلمان کو غیر کے کردار کی حاجت ہے،ان علم وعمل کے تضاد نے ہمیں غیر معتمد بنا دیا ہے،مسلمان کا مسلمان میں قابل قدر ہونا مشکل ہو گیا غیروں میں قابل قدر کیا ہوگا؟اس بد عملی سے ہمنے اسلام کے بڑھتے ہوئے سیلاب روک دیا اور نہ جانے کتنوں کو اس دولت کے حصول سے محروم بنا دیا،کسی نے بڑے پتہ کی بات بتائی کہ مسلماناں درگور مسلمانی درکتاب