حدیث نمبر 336

روایت ہے حضرت عمار سے کہ انہوں نے مدائن میں لوگوں کی امامت کی ۱؎ اور اونچی جگہ پر نماز پڑھانے کھڑ ے ہوگئے لوگ ان سے نیچے تھے ۲؎ حضر ت حذیفہ آگے بڑھے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیا عمار ان کے پیچھے لگ گئے حتی کہ انہیں حذیفہ نے اتار دیا ۳؎ جب عمار نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے حذیفہ نے کہا کیا تم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے نہیں سنا کہ جب کوئی شخص قوم کی امامت کرے تو انکی جگہ سے اونچی جگہ نہ کھڑا ہو یا اس کی مثل،عمار نے کہا کہ اسی لیے تو جب آپ نے میرا ہاتھ پکڑا میں آپ کے پیچھے ہولیا ۴؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے والد کا نام یاسر ہے،حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ رہے،صفین میں شہید ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے فرمایا تھا کہ تمہیں باغی جماعت قتل کرے گی،مدائن کوفہ کی جانب دجلہ کے کنارے بغداد شریف کے قریب ایک مشہور شہر ہے۔

۲؎ آپ اکیلے اوپر تھے باقی ساری جماعت نیچے،اگر کوئی مقتدی بھی اس جگہ آپ کے ساتھ ہوتا تو کراہت نہ ہوتی۔

۳؎ غالب یہ ہے کہ حضرت حذیفہ صف اول میں تھے لیکن ابھی نماز کی نیت نہ باندھی تھی آپ کو نیچے اتار کر نیت باندھی۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر نماز سے بیرونی آدمی نمازی کے حال کی اصلاح کرے تو قبول کرے ہاں اس کا لقمہ نہ لے ورنہ نماز جاتی رہے گی۔

۴؎ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمار نے یہ حدیث سنی تھی مگر اتفاقًا بھول گئے ہاتھ پکڑنے پر یاد آگئی، یہ ان حضرات کی بے نفسی ہے کہ نہ مسئلے بتانے میں جھجک کرتے ہیں نہ اس کے قبول کرنے میں عارو شرم۔خیال رہے کہ صرف امام کا مقتدیوں سے ایک ہاتھ اونچا کھڑا ہونا بھی منع کہ اس میں یہود و نصاری سے مشابہت ہے کیونکہ وہ اپنے امام کو اونچا کھڑا کرتے ہیں اور نیچا کھڑا ہونا بھی منع کہ اس میں امام کی اہانت ہے،نیز امام کا مخصوص جگہ میں کھڑا ہونا بھی منع ہے کہ اس میں بھی اہلِ کتاب سے مشابہت ہے لہذا امام محراب یا در میں نہ کھڑ ا ہو۔