امریکی پروڈکٹس نمائش میں کیوں نہیں ہوتیں؟

(علامہ افتخار الحسن رضوی )

گزشتہ دس برسوں کے دوران میں نے دنیا کے شرق و غرب میں کثرت سے سفر کیے ہیں۔ مشرقِ بعید سے لے کر مغربی یورپ تک اور جنوبی افریقہ سے مشرقی افریقہ تک دنیا کی تقریباً تمام بڑی کاروباری نمائشوں (بنیادی انسانی ضروریات سے لے کر دفاعی مصنوعات تک) میں شرکت کی ہے۔ مشرقِ وسطٰی خصوصا خلیجِ عرب تو ہماری ہوم گراؤنڈ ہے۔ ان تمام ممالک میں ہونے والی نمائشوں میں دنیا کے تمام ممالک کی مصنوعات موجود ہوتی ہیں عموماً جو کاروبار ان نمائشوں میں پیش ہوتے ہیں ان میں FMCG, construction, HVAC, Banking, Agriculture, Culture & Arts, Communication, Autos, Aviation, Sports, Fruits & Veggies, وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن امریکہ بہادر مشرقِ وسطٰی، افریقہ یا مرکزی یورپی منڈیوں میں کبھی بھی نمائش یا exhibitions کے ذریعے شریک نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود آپ کو امریکی تعمیراتی مشینری، سیب، بادام، مشروبات، کچھ دیگر خوراکیں امریکی سؤر کا گوشت بلادِ عرب کے گروسری سٹورز پر باآسانی مل جائے گا۔ سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ تمام بلادِ عرب کے دفاعی سیکٹر میں موجود آلات کی نئی خرید، مرمت اور resell کا مکمل کنٹرول امریکہ کے پاس ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟

Capitalism کے مروج نظام کی وجہ سے دنیا کے سرمائے کی غیر منصفانہ تقسیم ہے، یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین جو کہ در اصل Christian club ہے، وہاں بھی غریب عیسائی ممالک دن بدن غریب تر ہوتے جا رہے ہیں جب کہ Scandinavia اور اس کے ہم پلہ جرمنی ، فرانس، برطانیہ وغیرہ صفِ اول کے کھلاڑی ہیں۔ عیسائیوں کی داخلی فرقہ پرستی اور گروہی مسائل پر مبنی تقسیم جنوبی امریکہ اور مرکزی امریکہ کی صنعتوں کو خوش دلی سے قبول نہیں کرتی ۔ یہی وجہ ہے کہ پورے یورپ میں امریکہ کی اشیائے خوردونوش اور دفاعی مصنوعات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جرمنی، سویڈن اور فرانس نے تعمیراتی صنعت میں خود کار مشینری میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ شاید امریکہ اگلے سو برسوں میں بھی اس لیول پر نہ پہنچ سکے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دنیا میں متعدد جدید ٹیکنالوجیز کی بنیاد امریکہ میں رکھی گئی مثلاً گوگل، مائکروسوفٹ، ایپل وغیرہ کا تعلق امریکہ سے ہے لیکن ان تمام پروڈکٹس کی مرکزی منڈی اور صارفین کہاں سے ہیں؟ یورپی تاجر و صنعتی برادری کی طاقت دیکھیں ان تینوں کمپنیز نے اپنے بین الاقوامی آپریشنز کا کنٹرول آئیرلینڈ، جرمنی، بیلجئم اور دیگر یورپی ممالک میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماضی قریب میں ایک کالنگ ایپ viber کا بیڑا غرق بھی اسی تجارتی سازش کی وجہ سے ہی ممکن ہوا تھا جس کے جواب میں skype کے خرید میں decline آیا اور ابھی حال ہی میں Skype کے سرورز اور سروسز کی اسٹونیا میں منتقلی کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔

اگر آئی ٹی کی پروڈکٹس سے نکل کر انسانی زندگی کے essentials پر نظر کریں تو امریکی پروڈکٹس کوالٹی اور قیمت کے اعتبار سے کبھی بھی “برِ اعظم امریکہ” سے باہر واقع ممالک کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ مثلاً دنیا میں sealants & adhesives بنانے والی معروف کمپنی Dow Chemicals کا اس وقت پوری دنیا کی Glass & Aluminum انڈسٹری پر راج ہے۔ سال 2009-2012 کے مابین متحدہ عرب امارات میں آنے والے کرائسس کے بعد Dow کے لیے یہ ممکن نہ رہا تھا کہ وہ مقامی مارکیٹ میں اپنی پرانی یا جاری قیمتوں پر اپنی مصنوعات بیچ سکے کیونکہ صنعتی یونٹس کی قوتِ خرید کمزور ہو گئی تھی۔ اس صورت حال میں سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے معروف کیمیکل کمپنی SIKA اور امریکہ ہی سے تعلق رکھنے والی کمپنی GE Momentive نے اپنی مصنوعات کی تیاری انڈیا، ترکی، تھائی لینڈ اور خلیجی ممالک میں شروع کر دی۔ نتیجتاً Dow Chemicals کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور انہوں نے اپنے لائسنس علاقائی صنعتی یونٹس کو بیچ کر انہی ممالک میں پروڈکشن شروع کروا دی۔ اس کے بر عکس یہ حقیقت بھی سمجھیں کہ یورپ کی وہ کمپنیاں جو انسانی زندگی کے لیے درکار بنیادی مصنوعات بناتی ہیں اور مشرقِ بعید کے live stock سے لے کر timber انڈسٹری تک کسی نے بھی اپنے لائسنس امریکہ میں نہیں بیچے، بلکہ ان تمام کمپنیوں نے براہ راست ایکسپورٹ سے ہی تجارتی ترقی کی ہے۔

لیکن اس سے بھی اہم راز اور حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کہ سٹیٹ لیول کی جتنی کمپنیز ہیں ان سب کی مارکیٹنگ امریکی حکومت خود کرتی ہے ، امریکی حکومت اپنے دفاعی اتحادیوں کو “مکمل پیکیج” خریدنے پر مجبور کرتی ہے لیکن business ethics پر یقین رکھنے والے ادارے امریکہ کی یہ بد اخلاقی قبول نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی نمائشوں میں امریکہی مصنوعات ڈسپلے نہیں ہوتیں۔

عالمی برادری میں ہمیشہ سے طاقت کی جنگ رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے ممالک برابری کی سطح پر تجارت کرتے ہیں، مثلاً سوئٹزر لینڈ سے چاکلیٹ ، دودھ، گوشت اور خوراک کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں تو اس کے مقابلے میں جرمنی زرعی، تعمیراتی اور برقی مصنوعات کی کمی پوری کرتا ہے یوں خطے میں طاقت کی تقسیم میں توازن برقرار رہتا ہے۔ لیکن امریکہ کے اخلاقی حالت اس قدر پتلی ہے کہ اگر ترکی کسی وجہ سے اس کی auto mobiles پر محصولات کی شرح بڑھا دے تو وہ بپھر کر ایکسپورٹ ڈیوٹی میں ایک سو فیصد اضافہ کر دیتا ہے، یعنی gentleman policy کی بجائے blackmailing سے بزنس کرنا ہے حالانکہ ترک حکومت کو بالکل درست تجویز دی گئی تھی کہ Ford, GMC کی گاڑیاں امپورٹ کرنے کی بجائے مرکزی یورپ سے Renault, BMW, Mercedes سے معاہدے کر لیے جائیں کیونکہ یہ گاڑیاں مقامی موسم اور سڑکوں سے مطابقت رکھتی ہیں لیکن ترک حکومت نے اس کا اختیار عوام کو دے دیا کہ عوام جو چاہیں خریدیں، اس وقت سے تاحال امریکہ کی طرف سے ترکی کی کاروباری برادری کے خلاف Business ethics کا اظہار ساری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔

لیکن تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے۔ دنیا میں سب سے بڑی کسنٹرکشن کی نماش آج بھی امریکی ریاست Dallas میں منعقد ہوتی ہے جس میں ہر سال لاکھوں پروفیشنل شریک ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امریکی دھرتی پر منعقد ہونے والی اس نمائش میں آرگنائزر سب کو مدعو کرتے ہیں لیکن دوسرے ممالک سے نمائش میں شریک ہونے والی کمپنیوں کی مصنوعات کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کی جاتی۔ ترکی، چائنہ، ملائیشیا، فرانس، جرمنی اور دیگر کئی ممالک سے شریک ہونے والی کمپنیوں کے sample products کو بندرگاہوں میں customs clearance کے نام پر کئی کئی ہفتوں تک روکا جاتا ہے۔ اس نمائش میں آرگنائزرز کی مکمل کوشش ہوتی ہے کہ امریکی مٹی کو سونا بنا کر بیچا جائے ۔ ان تمام وارداتوں اور ہتھکنڈوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکی معیشت و صنعت اس وقت ریت کا پہاڑ ہے جو گرنے کے قریب ہے لیکن امریکی حکومت اسے مختلف حفاظتی طریقوں سے بچانے کے لیے کوشاں ہے۔

یہ ساری تحریر پڑھنے کے بعد Covid-19 یعنی کورونا وائرس کو سمجھنے کی کوشش کیجیے، آپ کے لیے معمہ آسان ہو جائے گا۔

ارطرل غازی دیکھنے والوں کو صلیبی سازشیں سمجھنے میں بھی آسانی ہو گی۔