أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَلَا يَرَوۡنَ اَلَّا يَرۡجِعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا وَّلَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا ۞

ترجمہ:

تو کیا یہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا تھا اور نہ ان کے کسی نقصان اور نفع کا مالک تھا

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا وہ یہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ وہ ان کے کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا تھا اور اس کے کسی ضرر اور نفع کا مالک نہیں تھا۔ اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اس کی الوہیت کے بطلان پر دلیل قائم کی ہے۔

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اگر وہ بچھڑا ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا تو پھر اس کو خدا ماننا صحیح تھا، کیونکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے وہ ان کے کسی ضرر اور نفع کا (بالذات) مالک نہیں تھا، اور خدا ہونے کی شان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو بالذات ضرر اور نفع پہنچانے پر قادر ہو۔

امام رازی نے لکھا ہے کہ بعض یہودیوں نے حضرت علی (رض) سے کہا تم اپنے نبی کو دفن کرنے سے پہلے ہی آپس میں (مسئلہ خلافت میں) اختلاف کرنے لگے تھے۔ حضرت علی نے فرمایا ہمارا اس میں اختلاف تھا کہ نبی کا خلیفہ کس کو ہونا چاہیے نبی کی ذات میں ہمارا اختلاف نہیں تھا اور تمہارے پائوں تو ابھی سمندر کے پانی سے خشک نہیں ہوئے تھے کہ تم نے کہا ہمارے لئے بھی ایک ایسا معبود بنادیں جیسا ان کا معبود ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 9 مطبوعہ دارالفکر بیروت -1415 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 89