أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَـغۡفِرَ لَـنَا خَطٰيٰنَا وَمَاۤ اَكۡرَهۡتَـنَا عَلَيۡهِ مِنَ السِّحۡرِؕ‌ وَاللّٰهُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ۞

ترجمہ:

بیشک ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں ات کہ وہ ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمارے جادو کرنے کے اس گناہ کو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا اور اللہ بہت بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا

جادوگروں کے اس قول کی توجیہ کہ فرعون نے ان جادو کرنے پر مجبور کیا تھا 

جب فرعون کے جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے تو فرعون نے ان کو ڈرایا اور دھمکیاں اور ان کو دوبارہ فرعون پر ایمان لانے کے لئے کہا۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے فرعون ہم جو دلائل اور معجزات دیکھ چکے ہیں ہم ان پر تجھے کبھی ترجیح نہیں دیں گے اور نہ تجھ کو اس ذات پر ترجیح دیں گے جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اور نہ تیری اطاعت کو اس کی عبادت پر ترجیح دیں گے۔ اب تجھے جو کرنا ہو وہ کرلے تو جو کچھ کرسکتا ہے وہ اسی دنیا میں کرسکتا ہے۔ یعنی تو صرف اسی دنیا میں ہم کو عذاب دینے پر قادر ہے، اس کے بعد تیری کوئی سلطنت اور تیرا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔

اس کے بعد انہوں نے کہا : ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں ات کہ وہ ہمارے سارے گناہوں کو بخش دے اور ہارے جادو کرنے کے اس گناہ کو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا۔

حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا جب وہ بچے تھے تو فرعون نے انہیں جادوگروں کے حوالے کیا اور کہا کہ ان کو جادو سکھائو۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18267-18268 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ انہوں نے یہ کیسے کہا کہ تو نے ہمیں جادو کرنے پر مجبور کیا تھا حالانکہ انہوں نے اپنی خوشی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جادو کے مقابلہ میں حصہ لیا تھا۔ قرآن مجید میں ہے :

وجآء السحرۃ فرعون قالوان لنا لاجران کنا نحن الغلبین قال نعم وانکم لیمن المقربین (الاعراف 113-114) اور جادوگر فرعون کے پاس آئے اور کہا اگر ہم غالب ہوگئے تو یقینا ہمارے لئے انعام ہوگا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! اور بیشک تم یقینا مقربین میں سے ہو جائو گے۔

امام عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ نے اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات دیئے ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ فرعون لوگوں کو جادو سکیھنے پر مجبور کرتا تھا، ابن الانباری نے کہا کہ فرعون اپن سلطنت کے لوگوں کو بلاتا اور ان کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنی اولاد کو جادو سکھائیں اور وہ اس کو ناپسند کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا شغف جادو کے ساتھ تھا اور اس کے دل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خوف جاگزین ہو یا، پس جادو پر مجبور کرنے سے ان کی مراد فرعون کا ان کو ابتداء میں جادو پر مجبور کرنا تھا۔

(٢) ان جادوگروں نے پہلے فرعون سے یہ کہا تھا کہ اگر ہم غالب ہوگئے تو کیا ہم کو اجر ملے گا، لیکن اس کے بعد جب انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا اور یہ دیکھا کہ وہ اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں تو وہ حضرت موسیٰ کے ساتھ کے ساتھ جادو کا مقابلہ کرنے سے ڈرے اور ان کو یہ خوف ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان پر غالب آجائیں گے اور ان کی جادو کرنے کی صنعت ماند پڑجائے گی اور ان کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔ لیکن فرعون اس کے سوا نہیں مانا کہ وہ حضرت موسیٰ سے مقابلہ کریں اور فرعون کے مجبور کرنے سے ان کی یہی مراد تھی۔

(٣) ان کو یہ خوف تھا کہ اس عظیم مجمع میں مغلوب ہوجائیں گے اور اس سے ان کے کاروبار پر اثر پڑے گا لیکن فرعون نے ان کو جادو کرنے پر مجبور کیا۔

(٤) فرعن نے ان جادوگروں کو ان کے وطنوں سے آنے پر مجبور کیا تھا اور یہی ان کے جادوگر کرنے کا سبب تھا۔ یہ چاروں اقوال ابن الانباری نے نقل کیے ہیں۔ (زاد المسیرج ٥ ص 318 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت -1407 ھ)

فرعون کی بیوی کا ایمان لانا 

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

فرعون کی بیوی لوگوں سے پوچھ رہی تھی اس معرکہ میں کون غالب رہا۔ اس کو بتایا ای کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون غالب رہے تو اس نے کہا میں موسٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئی۔ فرعون نے کسی شخص کو اس کے پاس بھیجا کہ اگر وہ اپنے ایمان سے رجوع نہ کرے تو اس کے اوپر پتھر کی ایک بھاری چٹان گرا دو ، جب وہ لوگ اس کے پاس گئے تو اس نے اسٓمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو اس کو جنت میں اپنا مکان نظر آیا، وہ اپنے ایمان پر قائم رہی اور اسی حال میں اس کی روح قبض کرلی گئی اور اس وقت اس کے جسم پر وہ بھاری چٹان گرائی گئی تو اس کے جسم میں روح نہیں تھی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 141، بیروت 1415 ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 73