أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّهٗ مَنۡ يَّاۡتِ رَبَّهٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَـنَّمَ‌ۚ لَا يَمُوۡتُ فِيۡهَا وَ لَا يَحۡيٰى‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک جو اپنے رب کے پاس جرم کرتا ہو آئے گا تو یقینا اس کے لئے جہنم ہے، جس میں وہ نہ مرے گا نہ جیے گا

ایمان لانے کے بعد جادوگروں کا فرعون اور اس کے حواریوں کو نصیحت کرنا 

اس کے بعد جو آیات ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لانے والے جادوگروں کا قول ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو وہ آیات یہ ہیں :

اور بیشک جو اپنے رب کے پاس جرم کرتا ہوا آئے گا تو یقینا اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا نہ جیئے گا اور جو اسکے پاس ایمان کے ساتھ حاضر ہوا اور اس کے اعمال نیک ہوئے تو ان ہی لوگوں کے لئے بلند درجات ہیں دائمی جنتیں جن کے نیچے سے دریا جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ان لوگوں کی جزا ہے جو گناہوں سے پاک رہتے ہیں وہ جادوگر جو ایمان لا چکے تھے وہ فرعون اور اس کے حواریوں کو برابر نصیحت کرتے رہے۔ عذاب آخرت سے ڈراتے رہے اور جنت کی طرف راغب کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجرم دوزخ میں داخل ہوگا اور مومن جنت میں دالخ ہوگا۔ اس آیت میں مجرم سے مراد کافر ہے کیونکہ دوسری آیت میں اس کے مقابلہ میں مومن کا لفظ ہے، اس لئے اس آیت سے معتزلہ کا یہ استدلال کرنا درست نہیں ہے کہ جو مومن مرتکب کبیرہ ہو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا نہ مرے گا نہ جیے گا کیونکہ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا یہاں مجرم سے مراد کافر ہے۔

اگر ان آیتوں میں جادوگروں کا کلام ہو تو اس کی توجیہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کلمات سن لیے تھے کہ آخرت میں مومن کا کیا حال ہوگا اور کافر کا کیا انجام ہوگا، یا بنو اسرائیل میں جو مومنین تھے ان سے انہوں نے یہ کلام سن لیا تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب وہ جادوگر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کلمات کا الہام کردیا۔

ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ جس شخص نے منع کیا تو وہ شخص دائمی جنتوں میں رہے گا اور اس کے درجات بلند ہوں گے اور جو شخص اپنے آپ کو کفر سے اور کبیرہ گناہوں سے بچائے رکھے اور پاکیزہ زندگی زگارے اللہ تعالیٰ اس کو ایسی ہی جزا عطا فرماتا ہے۔

یہ مضامینالاعراف :109122میں بھی گزر چکے ہیں۔ وہاں ہم نے ان عنوانوں پر بحث کی ہے : ہر نبی کا معجزہ اس چیز کی جنس سے ہوتا ہے جس چیز کا اس زمانہ میں چرچا ہ، سحر کی تعریف اور سحر اور معجزہ میں فرق، سحر اور ساحر کا شرعی حکم، سحر کے سکیھنے اور سکھانے کا حم، حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کا مقابلہ، رب موسیٰ و ہارون کہنے کی وجہ، فرعون کا عوام کو شبہات میں ڈالنا، آیا فرعون اپنی دھمکی پر عمل کر سکایا نہیں ؟ راہ حق میں قربانی دینے کے لئے تیار رہنا۔ (تبیان القرآن ج ٤ ص 257-264)

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 74