حضرت سیدنا دِحیہ بن خلیفہ کلبی رضی الله تعالی عنہ

❖ دحیہ دال کے کسرہ سے ہے۔ آپ قبیلہ بنی کلب سے ہیں۔ بہت ہی بلند مرتبہ صحابی ہیں۔

❖ غزوۂ احد اور اس کے بعد کے تمام اسلامی معرکوں میں کفار سے لڑتے رہے۔

❖ چھ سن ہجری میں حضور اقدس ﷺ نے ان کو روم کے بادشاہ قیصر کے دربار میں اپنا مبارک خط دے کر بھیجا اور قیصر روم حضور ﷺ کا نامۂ مبارک پڑھ کر ایمان لے آیا مگر اس کی سلطنت کے ارکان نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

❖ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں چمڑے کا موزہ بطور نذرانہ پیش کیا اور حضور اقدس ﷺ نے اس کو قبول فرمایا۔

❖ بڑے ہی خوبصورت حسین و جمیل تھے۔ ان کی مشہور کرامت یہ ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کی صورت میں زمین پر نازل ہوا کرتے تھے۔

❖ یہ مدینہ منورہ سے شام میں آ کر مقیم ہو گئے تھے۔ بہت لوگوں نے آپ سے احادیث لیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ کے زمانے میں وفات پائی۔

❖ مزار شریف شام کے شہر دمشق کے علاقے شیخ سعد میں واقع مقبرۃ المِزّہ میں ہے۔

— — —

الاکمال فی اسماء الرجال، حرف الدال، فصل فی الصحابة، صفحہ ۵۹۳

اسد الغابة، دحیة بن خلیفة، جلد ۲، صفحہ ۱۹۰