دشمن مسلم کے عمل کو اسلام کہتے ہیں

ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا مولانا ابھی چند سال ہوئے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف کافی بکواس کی جارہی ہے اور طرح طرح کے الزام لگائے جا رہے ہیں،ابھی حال ہی میں ایک بات یہ سننے میں آئی کہ مسلمان لوگ اپنے معاشرہ میں لڑکی کو عزت نہیں دیتے ان کے یہاں لڑکے کی پیدائش ہوتی ہے تو خوش ہوتے ہیں اور میٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور لڑکی کی پیدائش ہوتی ہے تو ناراض ہوتے ہیں اور کتنے تو ڈپریش ہو جاتے ہیں،اور مجھے بھی یہ بات سچ لگ رہی ہے اس لئے کہ ایسا سنا اور دیکھا جارہا ہے،میں نے کہا جناب عالی جو سنا اور دیکھا جارہا ہے وہ کچھ نام نہاد مسلمانوں کا عمل بد ہوگا جسے غیر مسلم اسلام کے نام پر ٹھونہنا چاہتے ہیں ہمارے اسلام کی یہ تعلیمات تھوڑی ہیں؟اس نے کہا مگر غیر مسلم کو کیا معلوم کہ اسلام میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے وہ تو سمجھتے ہیں مسلمان جو کرتے ہیں اسلام ہے،میں نے کھا بات درست ہے لوگ مسلمان کو دیکھ کر اسلام سیکھتے ہیں لیکن اب کہاں؟اب تو حالت یہ ہو گیٔ ہے جس کی ہمارے نبی نے بشارت سنائی تھی لایبقیٰ من الاسلام الا اسمہ ولا یبقیٰ من القراٰن الا رسمہ اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قراٰن کی صرف لکھائی باقی رہے گی،بس وہ زمانہ کہاں تلاشنے جائیں گے ہمارے سامنے ہے اسی کو دلیل بنا لیجیئے،سر سے لے کر پاوٗں تک اسلام کی تعلیم کا کچھ نہیں بال اکٹرس جیسے لباس غیر مسلموں جیسا،شوز،بوٹ میں بھی نئی نئی تراش خراش،کہاں ٹوپی کہاں ڈوپٹا،دیکھ کر معلوم ہی نہ ہو کہ مسلمان ہے یا غیر مسلم،پھر تو یہی کہنا پڑے نا کہ اسلام دیکھنا ہو تو مسلمان کو نہیں کتاب کو دیکھو،گویا ہمنے کردار کے کھلے اسلام کو دو دفتیوں میں بند کرکے رکھ دیا ہے