سفر حج و عمرہ

فَمَنْ حَجَّ البَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا(پ؍۲ع؍۳)

تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کے پھیرے کرے۔ (کنز الایمان )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!دور جاہلیت میں عربوں کی ایک رسم حج اور عمرہ سے متعلق یہ تھی کہ حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے الگ الگ سفر کرنا چاہئے، ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ نہیں ہو سکتا تھااسی وجہ سے انہوں نے حج اور عمرہ کے لئے الگ الگ مہینے مقرر کئے تھے اور اسی لئے وہ جدا جدا سفر بھی کرتے تھے، اسلام کی آمد سے اس رسم کو منسوخ کر دیا گیا اور ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کرنے کی اجازت مل گئی۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! یہ اس امت پر سرکار ﷺ کے صدقہ و طفیل آسانی ہے ورنہ الگ الگ سفر کتنا گراں گزرتا، اللہ د ہم سب کے لئے دونوں جہاں کا سفر آسان فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔