أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوۡا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰى فَنَسِىَ ۞

ترجمہ:

پس اس نے ان کے لئے بچھڑے کا مجسمہ بنایا جس کی بیل کی (طرح) آواز تھی تو لوگوں نے کہا یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ کا معبود، موسیٰ تو بھولا رہا تھا

زیورات سے بچھڑا بنانے کی تفصیل 

مفسرین نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان سے کہا تھا یہ زیورات نجس ہیں تم ان سے پاکیزگی حاصل کرو، اور سامری نے کہا حضرت موسیٰ کو جو دیر ہوگئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان زیورات کی سزا میں ان کو روک لیا گیا ہے۔ قرآن مجید اوزار کا لفظ ہے اس کا معنی ہے گناہ، اور چونکہ قبطی ان زیورات کو اپنی کفر یہ مجالس میں پہن کر جاتے اس لئے ان کو گناہ فرمایا۔

پھر بنی اسرائیل نے کہا ہم نے ان کو آگ میں ڈال دیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ حضرت موسیٰ کے آنے تک ان زیورات کو ایک گڑھے میں ڈال دو اور سامری کے کہنے سے انہوں نے ان کو آگ میں ڈال دیا۔ سامری نے ان زیورات کو پگھلا کر بچھڑے کا مسجمہ بنا لای۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ وہ سونے کا بےجان مسجمہ تھا یا وہ گوشت پوست کا چلتا پھرتا جاندار بچھڑا بن گیا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ بےجان مجسمہ تھا کیونکہ یہ جائز نہیں ہے کہ ایک گمراہ میں سوراخ اور جھریاں رکھیں ان سے ہوا گزرتی تھی، اس مجسمہ میں ایک طرف سے ہوا داخل ہوتی اور دوسری طرف سے نکل جاتی اور ہوا کے گزرنے سے اس میں آواز پیدا ہوتی تھی جو بچھڑے کی سی آواز کے مشابہ تھی۔

دوسرا قول یہ ہے کہ وہ زندہ بچھڑا بن گیا تھا اور بیل کی طرح آواز نکالتا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ سامری نے کہا :

(طہ :96) میں نے تو اللہ کے رسول (جبریل) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی تھی۔ اگر وہ زندہ بچھڑا نہیں تھا تو پھر سامری کے اس قول کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے اس کو العجل فرمایا ہے اور العجل حقیقت میں زندہ اور جاندار بچھڑے کو کہتے ہیں۔

(٣) اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خوار یعنی بیل کی سی آواز کو ثابت کیا ہے اور جو شخص الوہیت کا مدعی ہو اس کے ہاتھ پر خلاف عادت کام کو ظاہر کرنا جائز ہے کیونکہ اس سے کوئی اشتباہ پیدا نہیں ہوتا۔ سامری اس مجسمہ کے لئے الوہیت کا مدعی تھا اور عقل کے نزدیک اس کے رد پر بہت شواہد تھے جس کو زیورتا سے ڈھالا گیا ہو وہ کیسے بنانے والوں کا خدا ہوسکتا ہے۔ ہاں جو نبوت کا مدعی ہو اس کے ہاتھ پر اس کے دعویٰ کے موافق خلاف عادت کام کا ظاہر ہونا جائز نہیں ہے ورنہ سچے نبی اور جھوٹے نبی میں امتیاز کا دروازہ بند ہوجائے گا۔

(٤) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس وقت سامری وہ بچھڑا ڈھال کر بنا رہا تھا تو وہاں سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کا گزر ہوا۔ انہوں نے پوچھا یہ تم کیا بنا رہے ہو اس نے کہا میں ایسی چیزبنا رہا ہوں جو نفع تو پہنچائے گی لیکن کسک و نقصان نہیں دے گی۔ آپ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ میرا مقصد پورا کر دے تو حضرت ہارون نے دعا کی : اے اللہ ! اس نے جو سوال کیا ہے اس کو پورا کر دے، جب حضرت ہارون چلے گئے تو سامری نے کہا اے اللہ میرا یہ سوال ہے یہ بیل کی طرح آواز نکالے سو ایسا ہی ہوا۔ (جامع البیان جز 16 ص 249250 ملحضاً ) اس تقدیر پر یہ حضرت ہارون کا معجزہ تھا۔

بچھڑے کو معبود قرار دینے کا بطلان 

اس مقام پر امام رازی نے یہ اعتراض کیا ہے کہ سامری نے کہا یہ تمہار معبود ہے اور موسیٰ کا معبود ہے اور بارہ ہزار کے سوا چھ لاکھ بنی اسرائیل نے اس کو مان لیا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس کو انہوں نے خود ڈھال کر بنایا ہو اس کو وہ اپنا اور تمام آسمانوں اور زمینوں کا پیدا کرنے والا مان لیں۔ ایسا تو کوئی مجنون اور پاگل ہی کہہ سکتا ہے اور وہ پاگل اور مجنون تو نہ تھے، پھر اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ہوسکتا ہے وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق حلول کا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اس بچھڑے میں حلول کرلیا ہے، ” اور وہ بھول گئے “ کا معنی یہ نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ بھول گئے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ سامری یہ بھول گیا کہ وہ اس بچھڑے کے حادث ہونے سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور توحید پر استدلال کرتا اور وہ یہ بھول گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا۔ اس کی دوسری تقریر یہ ہے کہ سامری نے کہا یہ تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا خدا ہے اور موسیٰ اس خدا کو بھول گئے تھے۔ اس لیء وہ خدا کو ڈھونڈنے کے لئے کہیں اور چلے گئے ہیں اکثر مفسرین نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 88