أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَوۡجَسَ فِىۡ نَفۡسِهٖ خِيۡفَةً مُّوۡسٰى ۞

ترجمہ:

پس موسیٰ نے اپنے دل میں خوف پایا

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ڈرنے کی توجیہات 

ان لوگوں نے اپنی لاٹھیوں اور رسویں میں پارہ بھرا ہوا تھا جب ان لاٹھیوں اور رسویں پر سورج کی دھوپ پڑی تو یوں معلوم ہوا کہ وہ رینگ ہر ہی ہیں اور دیکھنے والے ان کو سانپ گمان کر رہے تھے۔

قرآن مجید میں ہے ” فاوجس “ الایجاس کا معنی ہے خوف محسوس کرنا، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خوف دور کرنے کے لئے پہلے ان سے کلام کیا۔ پھر ان کو عصا اور یدبیضاء کے بہت عظیم معجزات عطا کئے۔ پھر ان کی آٹھ دعائوں کو قبول فرمایا پھر فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں تمہارا کلام سن رہا ہوں اور تم کو دیکھ رہا ہوں (طہ :46) سو اتنے کثیر مبادی اور مقدمات کے باوجوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر کیوں ڈرے تھے ؟ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) حسن بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل اور اس کی طبیعت میں نامانوس چیز کو دیکھ کر توحش اور خوف پیدا ہونے کی کیفیت رکھی ہے۔ بشری تقاضے سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں بھی ان لاٹھیوں اور رسیوں کو دیکھ کر خوف پیدا ہوا ہرچند ان کو یقین تھا کہ وہ لاٹھیاں اور رسیاں ان تک نہیں پہنچ سکتیں اور اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہے۔

(٢) پہلے جادوگروں نے لاٹھیاں اور رسیاں ڈالیں تھیں حضرت موسیٰ کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے عصا ڈالنے سے پہلے دیکھنے والے عام لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں جادو کی تاثیر بیٹھ جائے اور وہ جادوگروں سے متاثر ہوجائیں۔

(٣) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خوف ہوا کہ عام لوگ جب لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپ بنتا دیکھیں گے تو وہ یہ سمجھیں گے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اسی طرح اپنی لاٹھی کو سانپ بنایا ہوگا۔

(٤) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ بغیر وحی کے از خود کوئی اقدام نہ کریں۔ جب اس موقع پر وحی مئوخر ہوگی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خوف ہوا کہ اگر وحی نازل نہ ہوئی تو ان کو شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔

(٥) علامہ قرطبی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے کہ بعض اہل حقائق نے یہ کہا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے یہ کہا تھا : تم پر افسوس ہے تم جھوٹ بول کر اللہ تعالیٰ پر افتراء نہ بادنھو، پس وہ تم کو عذاب سے ملیا میٹ کر دے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مڑ کر دیکھا تو ان کی دائیں جانب حضرت جبریل کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰٖ آپ اللہ کے دوستوں کے ساتھ نرمی کریں، حضرت موسیٰ نے کہا، اے جبریل یہ لوگ تو معجزہ کو باطل کرنے کے لئے بہت بڑے جادو کا سامان لے کر آئے ہیں یہ فرعون کے دین کی مدد کر رہے ہیں اور اللہ کے دین کو رد کر رہے ہیں اور آپ ان کے متعلق کہہ رہے ہیں : اللہ کے دوستوں کے ساتھ نرمی کریں ! جبریل نے کہا اس وقت سے لے کر عصر کے وقت تک یہ آپ کے ساتھ ہیں اور عصر کے بعد یہ جنت میں ہوں گ۔ جب حضرت جبریل نے یہ بتایا تو حضرت موسیٰ اپنے دل میں ڈرے اور ان کے دل میں خیال آیا کہ مجھے کون بتائے گا کہ میرے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا علم ہے، ہوسکتا ہے کہ اس ساعت میں، میں جس حال میں ہوں اگلی ساعت میں میرا حال اللہ کے علم میں اس کے برعکس ہو۔ جس طرح یہ جادوگر اس حال میں کفر پر ہیں اور اس کے بعد ایمان سے مشرف ہو کر جنت میں ہوں گے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ حالت دیکھی تو ان کو وحی فرمای تم ڈرو مت دنیا میں بھی تم ہی غالب رہو گے اور جنت میں بھی تم ہی بلند درجات میں ہو گے کیونکہ میں نے تم کو نبی بنایا ہے اور تم کو فضیلت دے کر چن لیا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١ ۃ ص 139) 

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 67