أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَتَنَازَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ وَاَسَرُّوا النَّجۡوٰى‏ ۞

ترجمہ:

پھر وہ لوگ اپنے معاملہ میں مختلف ہوگئے اور آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر وہ لوگ اپنے معاملہ میں مختلف ہوگئے اور آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ وہ ہنے لگے بیشک یہ دونوں ضرور جادوگر ہیں جو اپنے جادو سے تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں اور تمہارے بہترین مذہب کو مٹانا چاہتے ہیں۔ تم اپنے سارے دائو پیچ جمع کرلو، پھر صف باندھ کر آئو، بیشک آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب رہے گا۔ (طہ 62-64)

سرگوشیاں کرنے والوں اور ان کی سرگوشیوں کا بیان 

پھر وہ لوگ مختلف ہوگئے یعنی انہوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا تاکہ ایک رائے پر متفق ہوجائیں اور یہ مشورہ کرنے والے جادوگر تھے۔ انہوں نے جو سرگوشیاں کی تھیں اس کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی باتوں کو فرعون سے مخفی رکھنا چاہتے تھے اور ان کی باتوں کے متعلق درج ذیل اقوال ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا انہوں نے یہ سرگوشی کی تھی کہ اگر موسیٰ ان پر غالب آگئے تو وہ ان کی پیروی کریں گے۔

(٢) فتادہ نے کہا ان کی سرگوشی یہ تھی کہ اگر موسیٰ جادوگر ہیں تو ہم ان پر غالب آجائیں گے اور اگر ان کا تعلق آسمانوں سے ہے تو پھر وہی کامیاب ہوں گے۔

(٣) وہب بن منبہ نے کہا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا تم پر افسوس ہے تم جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان نہ باندھو وہ تم کو عذاب سے ملیا میٹ کر دے گا، یہ سن کر جادوگروں نے کہا یہ کسی جادوگر کا کلام نہیں ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ جادوگروں نے اپنی باتوں کو حضرت موسیٰ اور فرعون سے مخفی رکھا اور فرعون کی قوم سے بھی مخفی رکھا اور ان کی سرگوشی یہ تھی، سدی نے کہا یہ دونوں جادوگر ہیں جو اپنے جادو سے تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں اور تمہارے بہترین مذہب کو مٹانا چاہتے ہیں اور ضحاک نے کہا وہ یہ سرگوشی کر رہے تھے رسیوں اور لاٹھیوں کے ساتھ کس طرح کی تدبیر اتخیار کی جائے کہ ہم کو غلبہ حاصل ہو اور ہماری شعبدہ بازی کا کسی کو پتا نہ چلے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 62