أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ اٰمَنۡتُمۡ لَهٗ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَـكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ لَـكَبِيۡرُكُمُ الَّذِىۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ‌ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ وَّلَاُصَلِّبَـنَّكُمۡ فِىۡ جُذُوۡعِ النَّخۡلِ وَلَـتَعۡلَمُنَّ اَيُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبۡقٰى‏ ۞

ترجمہ:

فرعون نے کہا تم میری اجازت دینے سے پہلے اس پر ایمان لے آئے۔ بیشک یہی تمہارا وہ بڑا بزرگ ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے، سو میں ضرور تمہارے ہاتھ پائوں مخالف جانب سے کاٹوں گا اور تم کو ضرور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھائوں گا اور تم ضرور جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے

فرعون کی لاف و گزاف کی توجیہ 

فرعون نے کہا تم میری اجازت دینے سے پہلے اس پر ایمان لے آئے !

فرعون کا اس کلام سے منشاء یہ تھا کہ تم سرسری طور پر بغیر بصیرت کے ایمان لے آئے ہو اور وہ لوگوں کو یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ ان کے ایمان لانے کی وجہ سے تم کسی دھوکے میں نہ آنا۔ اس کے بعد اس نے کہا بیشک یہی وہ تمہارا بڑا بزرگ ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔

اس سے فرعون کا منشاء یہ تھا یہ جادوگر جو حضرت موسیٰ سے مقابلہ کرنے کے لئے آئے تھے دراصل حضرت موسیٰ کے شاگرد تھے اور یہ صرف دکھاوے مقابلہ تھا درحقیقت یہ نورا کشتی تھی اور ان کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدہ کے مطابق نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ اس لئے ان کے حضرت موسیٰ پر ایمان لانے سے تم دھوکا نہ کھانا اور یہ کلام بھی فرعون نے لوگوں سے سنانے کے لئے کیا تھا تاکہ ان جادوگروں کے ایمان لانے سے لوگ فرعون کے ساتھ اپنی وابستگی کو ختم نہ کردیں۔ حالانہ فرعون خود بھی جانتا تھا کہ یہ بات جھوٹ ہے وہ جادوگر تو حضرت موسیٰ کی آمد سے پہلے جادو سکیھ چکے تھے۔

پر فرعون نے کہا سو میں ضرور تمہارے ہاتھ پائوں مخالف جانب سے کاٹوں گا اور تم کو ضرور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھائوں گا اور تم ضرور جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ پھر فرعون نے ان کے ہاتھ پائوں کاٹ ڈالے اور ان کو قتل کردیا اور اس وقت انہوں نے یہ دعا کی تھی۔

ربنا افرغ علینا صبراً وتوقنا مسلمین (الاعراف :126) اے ہمارے رب ! ہم پر صبر انڈیل دے اور حالت اسلام میں ہماری روح قبض فرما۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ دن کے اول وقت میں کافر جادوگر تھے اور دن کے آخر وقت میں مسلمان شہداء تھے۔ (جامع البیان رقم الحدیث 18265، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ فرعون نے بہت قریب سے دیکھا تھا کہ حضرت موسیٰ کا عصا اژدھا بن گیا تھا اور وہ فرعون سمیت اس کے پورے محل کو نگلنے لگا تھا حتیٰ کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کی کہ اس کو اس اژدھدے سے بچائیں اور خود کو اس اژدھے سے بچانے سے عاجز اور قاصر تھا اور جب فرعون حضرت موسیٰ اور ان کے اژدھے سے قدر مرعوب اور خوف زدہ تھا تو یہ بات کسی طرح معقول ہے کہ اس نے ان جادوگروں کو دھمکیاں دیں جو حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں بھی ہتک آمیز کلام کہا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب انسان بہت زیادہ خوف زدہ ہوتا ہے تو وہ اپنی عزت کو بچانے کے لئے اور اپنے گرتے ہوئے اقتدار کو سہارا دینے کے لئے اس طرح کی بڑک مارتا ہے اور دھمکیاں دیتا ہے اور فرعون کی اس لاف و گزاف سے اس کا منشاء یہ تھا کہ اس کی ساکھ قائم رہے اور لوگوں کا اس پر اعتماد قائم رہے جیسے کوئی ڈھیٹ شخص کشتی میں ہار کر بھی ڈینگیں مارنے اور شیخی بگھارنے سے باز نہیں آتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 71