أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰى وَيۡلَكُمۡ لَا تَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسۡحِتَكُمۡ بِعَذَابٍ‌ۚ وَقَدۡ خَابَ مَنِ افۡتَرٰى ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے ان سے کہا تم پر افسوس ہے تم جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان نہ باندھو وہ تم کو عذاب سے ملیا میٹ کر دے گا اور بیشک مجس نے بہتان باندھا وہ نامراد رہا

فرمایا تم پر افسوس ہے تم جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان نہ باندھو، اس کا معنی ہے تم اللہ کے متعلق جھوٹی باتیں نہ کہو، اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو اور معجزات کے منتقل ہے نہ کہو کہ یہ جادو ہے، ورنہ وہ تم کو ملیا میٹ کر دے گا۔ (قرآن مجید میں فیسحتکم کا لفظ ہے اس کا معنی ہے کسی کو ہلاک کر کے جڑ سے اکھاڑ دینا اور فرمایا جس نے اللہ پر افتراء باندھا یعنی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے متعلق کوئی بات کہی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے ثواب کے حصول میں ناکام ہوگیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 61