أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ مَوۡعِدُكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى‏ ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا تمہارے ساتھ جشن کے دن کا وعدہ ہے اور دن چڑھے لوگ جمع ہوجائیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : موسیٰ نے کہا تمہارے ساتھ جشن کے دن کا وعدہ ہے اور دن چڑھے لوگ جمع ہوجائیں۔ پھر فرعون چلا گیا اور اپنے ہتھکنڈے جمع کر کے آگیا۔ موسیٰ نے ان سے کہا تم پر افسوس ہے تم جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان نہ باندھو وہ تم کو عذاب سے ملیا میٹ کر دے گا اور بیشک جس نے بہتان باندھا وہ نامراد رہا۔ (طہ :59-61)

یوم النزینت کا مصداق 

اس آیت میں یوم الزینت کا لفظ ہے اور اس کی تفسیر میں چار اقوال ہیں :

(١) ابوصالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اس سے مراد ان کی عید کا دن ہے۔

(٢) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اس سے مراد عاشورا (دس محرم) کا دن ہے۔

(٣) ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اس سے مراد یوم النیروز ہے اور وہ اس سال کے پہلے دن ہفتہ کے روز تھا۔

(٤) سعید بن جبیر کا قول ہے وہ ان کے بازار جانے کا دن تھا۔

ضحیٰ سے مراد ہے جب دن چڑھ جائے اور سورج کی روشنی خوب پھیل جائے، اور دن چڑھنے پر اس مقابلہ کو اس لئے معلق کیا تاکہ سورج کی روشنی کامل ہو اور لوگ آسانی سے جمع ہوجائیں اور حجت خوب واضح ہوجائے اور شک و شبہ سے بالات رہ۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 295، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 59