أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ هُمۡ اُولَاۤءِ عَلٰٓى اَثَرِىۡ وَ عَجِلۡتُ اِلَيۡكَ رَبِّ لِتَرۡضٰى ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا وہ لوگ میرے پیچھے آ رہے ہیں اور اب رب ! میں نے تجھے راضی کرنے کے لئے جلدی کی

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! میں نے اس لئے جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے۔ قتادہ نے اس کی تفسیر میں کہا یعنی تیری ملاقات کے شوق میں جلدی کی۔

حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیض اتار دی حتیٰ کہ بارش آپ کے جسم مبارک پر پڑنے لگی، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا یہ بارش ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیب :898)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد کے لوگ اس طرح اللہ تعالیٰ کا شوق رکھتے تھے۔

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کا شوق رکھتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) یا آپ کی کسی اور زوجہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں آپ نے فرمایا : یہ بات نہیں ہے لیکن جب مومن کے پاس موت کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی کرامت کی بشارت دی جاتی ہے۔ اس وقت اس کو اس سے زیادہ اور کوئی چیز محبوب نہیں ہوتی جو اس کے سامنے آنے والی ہے۔ پس جو اللہ کی ملاقات سے محبت کرتا ہے اللہ بھی اس کی ملاقات سے محبت رکھتا ہے اور کافر کے پاس جب موت کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے پس اس وقت اس کو اس سے زیادہ کوئی چیز ناپسند نہیں ہوتی جو اس کے سامنے آنے والی ہے۔ وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور الہ سے اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث :6507، صحیح مسلم رقم الحدیث :2683-2684، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیب :1840، سنن دارمی رقم الحدیث 2759 سننن الترمذی رقم الحدیث 1066، سنن النسائی رقم الحدیث :836)

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 84