أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِىَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰى‏ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اے موسیٰ آیا تم پہلے ڈالو گے یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوجائیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اے موسیٰ ! آی اتم پہلے ڈالو گے یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوجائیں۔ موسیٰ نے کہا بلکہ تم پہلے ڈالو، پس اچانک مسیٰ کو خیال ہوا کہ ان کے جادو سے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں۔ پس موسیٰ نے اپنے دل میں خوف پایا۔ ہم نے کہا آپ نہ ڈریں بیشک آپ ہی غالب رہیں گے۔ اور جو آپ کے دائیں ہاتھ میں ہے اس کو ڈال دیجیے وہ ان کی تمام کاری گری کو نگل جائے گا، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادو کا فریب ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا۔ (طہ :65-69)

جادوگروں کو لاٹھیاں ڈالنے کا حکم دینا کیا کفر کا حکم دینے کو مستلزم ہے ؟

اس سے پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ تم یوم زینت کو آنا اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ تم سب مجتمع ہو کر آنا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ وہ سب مقابلہ کے دن جمع ہوگئے۔ پھر انہوں نے کہا : اے موسیٰ ! آیا تم پہلے ڈالو گے یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوجائیں یہ ان کی رف سے انتہائی حسن ادب اور تواضح کا اظہار تھا اور انہوں نے اللہ کے نبی کے سامنے جو تواضح کی تھی اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ پھر جب انہوں نے تواضح کی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اس کے مقابلہ میں تواضح کی اور فرمایا بلکہ تم پہلے ڈالو۔

اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جادوگروں کا اپنی لاٹھیاں وغیرہ ڈالنا جادو اور کفر تھا، کیونکہ اس جادو سے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کا قصد کیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کفر ہے تو گویا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کفر اور تکذیب کا حکم دیا، اس اعتراض کا جواب چندہ وجوہ سے ہے :

(١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو لاٹھیاں وغیرہ ڈلانے کا حکم دیا تھا وہ اس جہت سے تھا کہ معجزہ اور جادو کا فرق ظاہر ہوجائے اور سب لوگوں کے سامنے فرعون کا خدائی کا دعویٰ جھوٹا ہوجائے۔

(٢) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جوان کو لاٹھیاں وغیرہ ڈالنے کا حکم دیا تھا وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط تھا یعنی اگر تم حق پر ہو تو لاٹھیوں کو ڈالو اور اس کی نظیریہ آیت ہے :

قاتوا بسورۃ من مثلہ ان کنتم صدقین۔ (البقرہ :23) اگر تم سچے ہو تو اس قرآن کی مثل کوئی سورت بنا کرلے آئو۔

(٣) ان جادوگروں کا اور دوسرے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ حضرت موسیٰ بھی ان کی طرح جادوگر ہیں پس جب تک وہ اپنی لاٹھیاں نہ ڈالتے اور حضرت موسیٰ کا عصا ان پر حاوی اور غالب نہ ہوتا، ان جادوگروں اور لوگوں کا یہ شبہ زائل نہ ہوتا۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو لاٹھیاں وغیرہ ڈالنے کا جو حکم دیا تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ ان کے معجزہ کا ظہور ہو نہ اس لئے کہ جادو کی بڑائی ظاہر ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 65