أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡۤا اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ يُرِيۡدٰنِ اَنۡ يُّخۡرِجٰكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ بِسِحۡرِهِمَا وَيَذۡهَبَا بِطَرِيۡقَتِكُمُ الۡمُثۡلٰى ۞

ترجمہ:

وہ کہنے لگے بیشک یہ دونوں ضرور جادوگر ہیں جو اپنے جادو سے تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتے ہیں اور تمہارے بہترین مذہب کو مٹانا چاہتے ہیں

بعض مشکل الفاظ کے معانی اور اعراب کا بیان 

ان ھذا لسحران، اس کی حرکات اور اعراب پر اعتراض کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نحوی قاعدہ کے اعتبار سے ان ھذین لساحران ہونا چاہیے تھا، امام رازی نے اس پر بہت طویل بحث کی لیکن وہ چونکہ خالص علمی اور دقیق بحث ہے اور اس کا تعلق عربی گرائمر سے ہے اور اردو قارئین کے لئے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اس لئے ہم نے اس کو ترک کردیا، امام رازی نے لکھا ہے کہ اس آیت کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ یہ بعض عرب کی لغت کے موافق ہے اور یہ بلحارث بن کعب کی لغت ہے اور چاہیں وہ تفسیر کبیرج ٨ ص 65-70 مطبوعہ داراحیاء الترات العربی بیروت، 1415 ھ کا مطلاعہ فرمائیں۔

جادوگروں نے کہا تھا یہ دونوں جادوگر ہیں۔ اس سے ان کا مقصد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات پر طعن کرنا تھا کیونکہ جو چیز جادو کے زور پر بنائی گئی ہو اس کو قرار اور ثبات نہیں ہوتا۔ ان کا مطل بیہ تھا کہ حضرت موسیٰ جس دین کی دعوت دے رہے ہیں اس کو بھی قرار اور ثبات نہیں ہے۔

پھر انہوں نے کہا یہ اپنے جادو سے تم کو تمہارے وطن سے نکالنا چاہتے ہیں۔ جادوگروں نے یہ شبہ فرعون سے حاصل کیا تھا اور اس کا منشا بھی لوگوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت سے منحرف کرنا تھا۔ جادوگروں نے مزید یہ کہا کہ یہ تمہارے بہترین مذہب کو مٹانا چاہتے ہیں، انہوں نے یہ جملہ بھی لوگوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شدید متنفر کرنے کے لئے کہا تھا کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک ان کا مذہب اور ان کا طریقہ بہت عمدہ تھا اور ان کے نزدیک جب لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ان کو اس عمدہ طریقہ سے برگشتہ کرنا چاہ رہے ہیں تو لوگ ان سے سخت متنفر ہوں گے۔

اس آیت میں بطریقتکم المثلی کے الفاظ ہیں، فراء نے بیان کیا ہے کہ طریقہ کا معنی ہے وہ عزت دار لوگ جو دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ ہوتے ہیں کہا جاتا ہے وہ لوگ اپنی قوم کے لئے طریقہ ہیں۔ زجاج نے کہا طریقہ سے پہلے مضاف مخدوف ہے اور اصل عبارت یوں ہے باھل طریقتکم المثلی یعنی تمہاری قوم میں جو مشرف، مکرم اور اکابر لوگ ہیں یہ ان کو لے جائیں گے۔ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ نے فرعون سے فرمایا تھا ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو اور مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ الطریقۃ المثی سے ان کی مراد تھی پسندیدہ اور بہترین دین، کیونکہ ہر شخص اپنے دین کو سب سے اچھا سمجھتا ہے قرآن مجید میں ہے :

کل حزب بمالدیھم فرحون (الروم :32) ہر گروہ اسی پر خوش ہوتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے۔

المثلی، الامثل کی تانیث ہے، اس کا معنی ہے جو حق کے زیادہ مشابہ ہو یا جو زیادہ واضح اور زیادہ ظاہر ہو۔ اس کے بعد فرمایا تم سب اپنے دائو پیچ جمع کرلو پھر صف باندھ کر آئو آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب رہے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 63