حدیث نمبر 338

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے میں نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے آپ کی اقتداء کررہے تھے ۱؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یہ نماز تراویح تھی اور حجرہ چٹائی کا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کے لیے اپنے پاس چٹائی کھڑی کرلی تھی،عائشہ صدیقہ کا حجرہ مراد نہیں کیونکہ اس میں رہتے ہوئے لوگ آپ کی اقتداء نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آپ کسی کو نظر نہ آتے۔خیال رہے کہ اب بھی اگر چٹائی اتنی چھوٹی ہو کہ کھڑے ہونے پر مقتدیوں کو امام نظر آسکے تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے، بعض شارحین نے سمجھا کہ یہ مرض وفات شریف کی نماز ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ کے حجرے سے نماز پڑھائی ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ اس زمانہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ امام رہے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوران جماعت میں دو آدمیوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر باہر تشریف لائے لہذا اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ امام حجرے میں رہ کر مسجد کے نمازیوں کو پڑھائے۔