مدارس میں فنی کمزوری کا سبب

مدارس دینیہ کے طلبہ اگرچہ زیادہ محنت کرتے ہیں، پڑھائی کو زیادہ وقت بھی دیتے ہیں مگر ان میں خود اعتمادی کا فقدان رہتا ہے کیوں کہ ان کو اپنے اندر کہیں نہ کہیں کمزوری ضرور نظر آتی ہے یا کسی دوسرے سے مرعوب ہوتے ہیں

اس کے مقابلے 👊🏻 میں یونیورسٹی کے طلبہ اگرچہ کم وقت اور کم محنت کے باوجود خود کو ترم باز خان و تیس مار خان تصور کرتے ہیں، بعض اوقات بولنے میں بھی تیز ہوتے ہیں اور عقلی و نقلی بات کرنے میں خود کو فائق رکھتے ہیں

اس کو دو لحاظ سے دیکھنا چاہیے

ایک لحاظ سے وہ بالکل جیسا سوچتے ہیں ویسے ہی ہوتے ہیں

دوسرے لحاظ سے وہ دینی طلبہ سے بہت پیچھے نظر آتے ہیں، ان میں وہ صلاحیت و استعداد نہیں ہوتی جو مدارس کے طلبہ میں ہوتی ہے

اس تحریر کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ 👀 دلانا ہے جس کی ابھی ضرورت ہے یعنی وہ کون سا سبب ہے؟ جس کی وجہ سے مدارس کے طلبہ میں فنی کمزوری پائی جاتی ہے

فی الوقت اسی پر کلام کرنے کا قصد ہے؛

اس بارے میں چند ایسے دوستوں سے بات ہوئی جنہوں نے دونوں ماحول دیکھے ہیں

اُخرَوی لحاظ سے مدارس کی تعلیم و تربیت کا تقابل تو کوئی کر ہی نہیں سکتا؛

تاہم دنیوی لحاظ سے فنی کمزوری کا ایک سبب ہمارا ماحول، پڑھانے کا انداز، اور نصاب سرِ فہرست ہے

ہمارے مدارس دینیہ میں کتاب کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے، فن کی نہیں

کتاب کی اہمیت کا انکار نہیں مگر پڑھنے، پڑھانے کے انداز پر کلام ہے

فنی مہارت سے کتاب کا حل بہت آسانی کے ساتھ ہو سکتا ہے

یہاں مجھے اپنے استاد محترم کا قول یاد آ رہا ہے کہ ہم فن پڑھاتے ہیں، کتاب نہیں

میں سمجھتا ہوں کہ اگر فن پر مہارت حاصل کرنے کے ساتھ فقط ایک کتاب درست انداز سے مکمل پڑھائی جائے تو دوسری کتب طلبہ خود پڑھنے کے اہل ہو جائیں

جب سے اب تک کتاب ہی پر زور ہے، نصاب ہی کی تکرار ہے،

جب استاد کے ساتھ طالب علم بھی نصاب سے بے زار ہوگا تو صلاحیت کہاں سے رونما ہوگی⁉️ شاید میری اس تحریر سے کسی کا اتفاق نہ ہو مگر اپنی رائے مسلط کرنے کی بجائے مشورے کے طور پر پیش کرنا ہر ایک کا حق ہے۔

میں اپنے بزرگوں کے دیے ہوئے طریقہ کار کی قدر کرتا ہوں مگر اب جب مجھ جیسے نا اہل، سست، کاہل شاگرد پیدا ہو گئے،

ماحول و معاشرہ سہولت پسند ہوگیا،

ہر چیز کا معیار اور انداز تبدیل ہو گیا تو آخر کیا وجہ ہے؟ کہ ہماری پڑھائی کا انداز وہی ہے،

آئے دن درسی کتب کو کم کرکے کم وقت میں درس نظامی کرنے کے خواب اب حقیقت بن گئے مگر صلاحیت و قابلیت کا وہی فقدان پہلے سے زیادہ زوروں پر ہے

اگر ہم کو بھی فنی ٹِرک آ جائے کہ کم وقت میں مہارت حاصل کرنے کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں تو شاید آج ہمارے سامنے کسی کو کچھ کہنے کی مجال نہ ہو

جب ہم خامسہ، سادسہ تک عبارت کو درست کرنے کے چکر میں لگے رہیں گے یا پھر گستاخی معاف! منصب تدریس پر اپنی عبارات درست کرنے کی فکر میں ہوں گے تو آنے والوں کے مستقبل کا کیا بنے گا⁉️

🧏🏻‍♂️میں نہیں کہتا کہ!

سب ہی ایسے ہیں مگر کچھ تو ضرور ہے جس کی وجہ سے آج کل کے مدارس کے طلبہ یہاں، وہاں بھٹکتے نظر آتے ہیں❗اگرچہ اس میں ہمارا بھی کچھ قصور ہے

پہلے کے دور کی مثالیں ہم بھی دے سکتے ہیں کہ جناب وہ ہر ایک کو اپنا استاد نہیں بناتے تھے، ہر ایک سے معلومات حاصل نہیں کرتے تھے مگر وہ اپنی جگہ بالکل درست تھے ہم بھی اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں

لیکن….کچھ انداز کو بدل کر؛

🌹اگر ہم نصاب و کتاب کا بوجھ طلبہ پر لادنے کی بجائے کچھ خود برداشت کر لیں،

🌹کسی بھی فن کو حاصل کرنے کے مختلف ذرائع سے استفادہ کر لیں تو شاید ہم بھی بہت آگے نکل جائیں

ہمیں خوب معلوم ہے کہ طلبہ امتحانات میں عربی کی بجائے اردو شروحات کی طرف بھاگتے ہیں، نوٹس تلاش کرتے ہیں سب نہ سہی کچھ تو بلکہ اکثر ایسا ہی کرتے ہیں تو اگر جو استاد صاحب جس فن میں ماہر ہو

👈🏻وہ ہی فن پڑھائے

👈🏻اور اس فن کی مکمل معلومات طلبہ کو دے کر ان کو بھی اس فن پر مواد جمع کرنے پر لگا دے

👈🏻نئی نئی تحقیق سامنے لانے والوں کو انعام و اکرام سے نوازے

👈🏻جس فن کی جہاں ضروت ہو وہاں استعمال و اجراء بھی کروائے

👨🏻‍💻تو شاید کم مدت میں ہمارے مدارس کے طلبہ میں وہ نمایاں خصوصیات ظاہر ہوں جو اس وقت معدوم ہیں

عربی عبارت کو پڑھنے، سمجھنے کا معیار ہمارے ہاں صرفی و نحوی کتب ہیں،

ہر ایک صرفی نحوی ابحاث میں بے جا وقت برباد کرتا نظر آتا ہے

🌹اس میں بھی فنی لحاظ سے کتب کو دیکھنا لازمی ہے

آج کل ہر ایک صرفی نحوی اسباق تراکیب پڑھنے کی بجائے پڑھانے کا ذہن رکھتا ہے🥱 پھر پڑھانے والے خود بھی قابل اصلاح نظر آتے ہیں

کچھ دنوں پہلے ایک مدرسے کے مھتمم نے رابطہ کیا

ان کے مدرسے کا انداز کچھ قابل فہم نظر آیا🤝🏻

سب سے پہلے متونِ نحو مثل” اجرومیہ“ و ”الفیہ“ وغیرہ کا حفظ 🧠

پھر ان کی شروحات مع اجراء وہ بھی فقط دو سال یعنی دو سال تک نحوی کتب کا اجراء استعداد پر صرفی اجراء بھی ساتھ 👌🏻

اور تدریس کا انداز بھی یوں کہ ایک گھنٹے کے پیریڈ میں چالیس منٹ تدریس کے اور بیس منٹ طلبہ کی ہاتھوں ہاتھ دہرائی کے یعنی جو پڑھایا ہے وہ استاد کے سامنے پڑھیں اور استاد صاحب ہر ایک کے اندازِ افہام و تفہیم کو چیک ✅کرے

پھر ہر فن کی فقط ایک کتاب مکمل

مگر………

اس کتاب 📗 سے مکمل فن کی معرفت و اجراء کی ذمہ داری استاد صاحب کی اگرچہ یہ انداز بہت مشکل ہے مگر اس سے بہتر ہے کہ

کوئی بلاغت کی مکمل کتب پڑھنے کے بعد قرآن پاک کی فصاحت و بلاغت کو بیان کرنے سے گونگا 🤐 نظر آئے

لکھی ہوئی امثلہ پر بھی اپنا ایسا اجتھاد نافذ کرے کہ مراد مصنف ✍🏻 ہی الٹ پلٹ ہوکر رہ جائے

منطق کی مکمل کتب پڑھنے کے بعد قضیوں کی معلومات ℹ تک نہ ہو، بسائط و مرکبات و جہات و اشکال کو لایعنی و فضول بحث 🤦🏻‍♂️ گردانتا پھرے

کوئی مفتی صاحب کہلانے والا ”الاشباء والنظائروالنظائر“ و” شرح مجلہ“ جیسی اصولی کتب سے نابلد 👼🏻 ہوکر فقہ و اصول فقہ کا معیار 🗣️ کھو کر شامی کا محشی بن بیٹھے

فلسفے اور سائنس کو قرآن سے ثابت کر کے شیخ الاسلام 👳‍♂️ کے لقب سے ملقب ہو جائے تو اسے فقط بھرم بازی کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں

🧐 خیر کوئی خود کو کیا کہتا ہے کیا کرتا ہے اس کی بجائے اگر ہم واقعی ایسے افراد پیدا کریں جن میں حقیقی صلاحیت 💬 پائی جائے تو مدارس کے طلبہ یونیورسٹی کے طلبہ سے یقینا فائق نظر آئیں 🌹

جس طرح بعض یونیورسٹیوں میں قابلیت کا دعوی کیا جاتا ہے 👨🏻‍🎤 وہ اگر زیادہ وقت اور زیادہ محنت کے عادی 🙇🏻‍♂️ ہو جائیں تو شاید

1️⃣ ان میں بھی بے جاتنقید کی عادت

2️⃣ ہر کسی کی بات ماننے

3️⃣ ہر بات میں خود کو محقق سمجھنے کی عادات کا کافی حد تک صفایا 🧹 ہو جائے

جس طرح مدارس کے طلبہ ہمارے ہیں اسی طرح یونیورسٹوں کے طلبہ بھی ہمارے ہیں 💯 وہ بھی دین کا درد رکھتے ہیں وہ بھی اہلسنت کا دفاع کرتے ہیں

💁🏻‍♂️ کاش ہم ایک دوسرے پر تنقید نہ 🙅🏻‍♂️ کریں اپنے اندر کم زوری کو ختم کریں

🌐 میری رائے یہ ہے کہ ہر ایک کو کوشش کرنے کا موقع دیا جائے

🟢 ہر ایک کی صلاحیت کی داد دی جائے

🟣ہر ایک سوچنے سمجھنے کوشش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

🔮 فقط طریقہ کار کی معلومات ℹ دی جائے کہ کون سی چیز کم وقت 🤏🏻 میں کیسے حاصل کی جائے؟

🕹️تجرباتی دور سے نکل کر کامیاب لوگوں کے نئے نئے طریقے اپنانے چاہییں

⚖️جو جس چیز کا اہل ہے اسی کو وہ چیز سونپی جائے بلکہ جو جس چیز کا اہل ہے وہی وہ چیز کرے جس چیز کا پتا نہیں اس میں دوسروں کا وقت برباد 😷 نہ کرے

آج عید کا دوسرا دن ہے اپنے گاوں میں درختوں کے بیچ کھیتوں کی ہریالی سے تازہ ٹھنڈی ہواؤں میں

ذہن سے یہ خیال گزرا تو میں نے چاہا کہ اسے اہل علم کے ساتھ شیئر کروں ہوسکتا ہے میری کسی لائن سے کسی کو کوئی فائدہ ملے باقی تنقید کی نظر سے تو سب بیکار ہے

✍🏻 تحریر: ابو احمد عبدالغنی عطاری المدنی عفی عنہ