أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنۡهَا خَلَقۡنٰكُمۡ وَفِيۡهَا نُعِيۡدُكُمۡ وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً اُخۡرٰى‏ ۞

ترجمہ:

اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تم کو باہر نکالیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہی اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تم کو باہر نکالیں گے (طہ : ٥٥ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا ایک ہی مٹی سے مخلوق ہونا 

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے، ہم نے تم کو اسی زمین سے پیدا کیا ہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو نطفہ سے پیدا کیا ہے اور قرآن مجید میں بھی یہی فرمایا ہے :

خلق الانسان من نطفہ (النحل : ٤) انسان و نطفہ سے پیدا کیا۔

ان خلفا الانسان من نطفۃ امشاج (الدھر : ٢) بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہمارے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور وہ ہماری اصل ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے تو چونکہ اصل انسان کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے تو اس وجہ سے فرمایا ہم نے تم کو اس زمین سے پیدا کیا ہے ایک اور سورت میں اللہ تعالیٰ نے ہماری خلقت کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے :

(المومنون :12-14) اور بیشک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا فرمایا پھر ہم نے اس کو مضبوط جائے قرار میں نطفہ بنا کر رکھا پھر ہم نے نطفہ کو جما ہوا خون بنادیا، پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کی بوٹی بنادیا، پھر گوشت کی بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں کو گوشت پہنا دیا۔ پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) ایک اور مخلوق بنایا، سو اللہ بڑی برکت والا ہے جو سب سے بہتر بنانے والا ہے۔

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ انسان کی پیدائش نطفہ اور حیض کے خون سے ہوتی ہے اور نطفہ اور حیض کا خون دونوں غذا سے بنتے ہیں اور غذا گوشت اور سبزیوں سے حاصل ہوتی ہے اور گوشت بھی حیوانوں کے سبزہ کھانے سے بنتا ہے تو غذا کا رجوع اور مآل سبزیوں کی طرف ہے اور سبزیاں پانی اور مٹی کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہیں تو خلاصہ یہ ہے کہ نطفہ اور حیض کا خون زمین کی مٹی سے پیدا ہوتا ہے لہٰذا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے۔

اس اعتراض کا تیسرا جواب یہ ہے کہ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کے اوپر اس کی قبر کی مٹی چھڑ کی جاتی ہے، ابوعاصم نے کہا تم حضرت ابوبکر اور عمر کے لئے اس جیسی فضیلت نہیں پا سکو گے، کیونکہ ان دونوں کی مٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مٹی سے ہے۔ (حلیتہ الاولیاء ج ٢ ص 318، رقم الحدیث :2389، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت :1418 ھ)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ہر انسان کو اس مٹی میں دفن کیا جانا ہے جس سے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :6531، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت :1403 ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) نے جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے، فرشتہ زمین سے مٹی لے کر اس کی ناف کاٹنے کی جگہ پر رکھتا ہے، اس مٹی میں اس کی شفاء ہوتی ہے اور اسی میں اس کی قبر ہوتی ہے۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث :6533، مطبوعہ بیروت)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اس کی ناف میں وہ مٹی ہوتی ہے جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے اور جب وہ ارذل عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو وہ اس مٹی کی طرف لوٹایا جاتا ہے جس سے وہ پیدا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اس مٹی میں اس کو دفن کیا جاتا ہے اور میں اور ابوبکر اور عمر ایک ہی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں اور اسی مٹی سے ہم اٹھائے جائیں گے۔ (فردوس الاخبار ج ٤ ص 235، اللئالی المصنوعتہ ج ١ ص 286)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور ابوبکر اور عمر ایک مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں۔ (فردوس الاخبار ج ٢ ص 305، رقم الحدیث :2775، کنز العمال رقم الحدیث :32683، تنزیہہ الشریعتہ ج ۃ ص 349)

حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا جو فرشتہ ارحام کے ساتھ موکل ہے وہ رحم سے نطفہ لے کر اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے اور کہتا ہے اب رب یہ پیدا کیا جائے گا یا پیدا نہیں کیا جائے گا، اے رب اس کا رزق کتنا ہے، اے رب اس کے اعمال کیسے ہیں، اے رب اس کی مدت حیات کتنی ہے، پھر جس جگہ اس کو دفن کیا جائے گا وہاں کی مٹی لے کر اس کو نطفہ کے ساتھ گوندھتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے، منھا خلقنا کم و فیھا نعید کم، (طہ :52) (نوادر الاصول ج ١ ص 67، دارالجیل، اللئالی المصنوعتہ ج ١ ص 285، 284)

امام احمد رضا قادری نے متوفی 1340 ھ لکھتے ہیں :

خطیب نے کتاب المتفق و المفترق میں عبداللہ بن معسود (رض) سے روایت کی کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بچہ کی ناف میں اس مٹی کا حصہ ہوتا ہے جس سے وہ بنایا گیا یہاں تک کہ اسی میں دفن کیا جائے گا اور میں اور ابوبکر و عمر ایک مٹی سے بنے، اسی میں دفن ہوں گے۔ (فتاویٰ افریقیہ ص 99, 100 مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 55