أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنِّىۡ لَـغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا ثُمَّ اهۡتَدٰى ۞

ترجمہ:

اور بیشک میں اس کو ضرور بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہوں جو توبہ کرتا ہے، ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے پھر ہدایت پر جم جاتا ہے

بندہ کا بہت زیادہ گناہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ معاف فرمانے والا

اور بیشک میں اس کو ضرور بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہوں جو توبہ کرتا ہے، ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے پھر ہدایت پر جم جاتا ہے

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی صفت غافر، غفور اور غفار سے کی ہے : غافر الذنب (المومن : ٣) گناہوں کو بخشنے والا اور غفور اور غفار مبالغے کے صیغے ہیں : وربک الغفور ذوالرحمۃ (الکہف :58) آپ کا رب بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ رحمت والا ہے۔ وانی لغفار لمن تاب (طہ :82) اور جو توبہ کرے میں اس کو بہت زیادہ بخشنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے افعال میں غفر اور یغفر ماضی اور مستقبل کے صیغے استعمال فرمائے ہیں اور مغفرت کا ذکر فرمایا ہے۔ مغفرت کا ذکر اس آیت میں ہے، وان ربک لذو مغفرۃ للناس (الرعد : ٦) اور بیشک آپ کا رب ضرور لوگوں کی مغفرت کرنے والا ہے اور غفر کا ذکر اس آیت میں ہے : حضرت دائود (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا فغفرنا لہ ذالک (ص 25) سو ہم نے ان کا یہ کام معاف فرما دیا اور یغفر کا ذکر اس آیت میں ہے : ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا (الزمر :53) بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ پہلا ماضی کا اور دوسرا مستقبل کا صیغہ ہے۔ 

انسان کے گناہ صغیرہ ہوتے ہیں یا کبیرہ، صغیرہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کی وجہ سے معاف فرما دیتا ہے :

(النساء :31) اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے رہو گے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے صغیرہ گناہوں کو مٹا دیں گے۔

نیز صغیرہ گناہوں کو نیک اعمال کرنے کی وجہ سے بھی معاف فرما دیتا ہے :

ان الحسنات یدھین السیات (ھود : ١١٤) بیشک نیک اعمال گناہوں کو دور کردیتے ہیں۔

واضح رہے کہ اولیٰ اور مستحب کا ترک اور مکروہ تنز یہی کا ارتکاب سرے سے گناہ ہی نہیں ہے اور واجب کا ترک اور مکروہ تحریمی کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے اور فرض کا ترک اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کو اللہ تعالیٰ توبہ سے بھی معاف فرماتا ہے جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے : بیشک میں اس کو بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہوں جو توبہ کرتا ہے ایمان لاتا ہے نیک عمل کرتا ہے پھر ہدیات پر جم جاتا ہے۔ نیز فرمایا : 

(الشوریٰ :25) وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بغیر توبہ کے عین عالم معصیت میں بھی گناہوں کو بخش دیتا ہے !

(الرعد : ٦) بیشک آپ کا رب لوگوں کے گناہوں کے باوجود ان ضرور بخشنے والا ہے۔

(النساء :48) بیشک اللہ اس کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم کو بخش دیتا ہے جس کے لئے چاہے۔ یعنی وہ شرک کے ماسوا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ ان پر توبہ کی ہو یا نہ کی ہو۔

زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ نے گناہوں کے بخشنے کو چار چیزوں پر مترب فرمایا ہے، توبہ ایمان، نیک عمل کرنا پھر ہدایت پر جم جانا، گناہ کرنے کے اعتبار سے بندہ کی تین صفات ہیں وہ ظالم ہے، ظلوم اور ظلام سہے، فمنھم ظالم لنفسہ (فاطر :32) سو ان میں سے بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں، انہ کان ظلوما جھولا (الاحزاب :72) بیشک انسان بہت ظلم کرنے والا جاہل ہے اور بندہ کی ہر صفت کے مقابل ہمیں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے، اگر بندہ ظالم ہے تو اللہ تعالیٰ غافر ہے، اگر بندہ ظلوم ہے تو اللہ تعالیٰ غفور ہے اور اگر بندہ ظلام ہے تو اللہ تعالیٰ غفار ہے، بندہ بہت زیادہ ظلم اور گناہ کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت زیادہ گناہوں کو بخشنے والا ہے۔

بار بار گناہ بخشنے کی وضاحت 

علامہ عبدالرحمٰن بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :

غفار کا معنی جو بار بار بندہ کے گناہوں کو بخش دے۔ جب بندہ کے گناہ بہت زیادہ ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت بہت زیادہ ہوتی ہے، غفر کا لغوی معنی ہے ستر کرنا چھپانا پس غفار وہ ہے جو اپنے بندوں کے گناہوں کو چھپالے اور اپنے کرم سے ان پر ثواب انڈیل دے۔ (زاد المسیرج ٥ ص 311-312 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت 1407 ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میرا بندہ کوئی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے اے اللہ ! میرے گناہ کو بخش دے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کا یقین ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہوں کو بخشتا ہے اور وہ گناہوں پر گرفت بھی فرماتا ہے۔ وہ پھر دوبارہ گناہ کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اے رب میرے گناہ کو بخش دے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندہ نے گناہ کیا اور میرے رب میرے گناہ کو بخش دے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندہ نے گناہ کیا اور اس کو یقین ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور گناہوں پر گرفت بھی فرماتا ہے۔ تو جو چاہے عمل کر میں نے تجھ کو بخش دیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :7507 صحیح مسلم رقم الحدیث :2758، مسند احمد ج ٢ ص 296، عمل الیوم واللیلہ للنسائی رقم الحدیث :419)

علامہ ابو العباس قرطبی مالکی متوفی 656 ھ المفھم میں لکھتے ہیں بندہ کا یہ استغفار ہے جو استغافر کا محتاج ہے اور اس حدیث کا مفاد یہ ہے کہ وہ دوبارہ گناہ کرنا ہرچند کہ پہلی بار گناہ کرنے سے زیادہ برا ہے۔ کیونکہ اب اس گناہ کے ساتھ پہلی توبہ کو توڑنے کا گناہ بھی شامل ہوگیا، لیکن اب دوبارہ توبہ کرنا پہلی توبہ سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ اب وہ کریم کے دروازہ پر زیادہ شدت کے ساتھ اور گڑ گڑا کر دستک دے گا۔

علامہ ابی مالکی متوفی 828 ھ نے عالمہ قرطبی کی اس عبارت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ بندہ کا گناہ پر استغفار کرنا لازماً توبہ سے کنایہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مغفرت کی دعا ہے جیسے اور مغفرت کی دعائیں ہوتی ہیں لہٰذ اگر اس نے دوبارہ گناہ کیا تو اس سے یہ لازم نہیں آئے گا کہ اس نے پہلے جو استغفار کیا تھا اب اس استغفار پر بھی استغفار کرنا ضروری ہے اور اس نے جس گناہ پر پہلے توبہ کی تھی اس گناہ کو دوبارہ کرنے سے پہلی توبہ نہیں ٹوٹتی بلکہ اہل حق کے نزدیک پہلی توبہ صحیح ہے۔

کیا توبہ کرنے کے بعد دوبارہ گناہ کرنا توبہ کو کھیل بنانا ہے ؟

علامہ ابی مالک کے شاگرد علامہ السنوسی مالکی متوفی 895 ھ اپنے استاذ کا رد کرتے ہوئے علامہ قرطبی کے دفاع میں لکھتے ہیں جب اس نے دوبارہ گناہ کیا تو وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے پہلے استغفار کو ختم کردیا اور یہ بالکل واضح ہے کہ گناہ پر اصرار کرنے کے باوجود اس گناہ پر استغافر کرنا بجائے خود معصیت ہے، کیونکہ یہ استغفار اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے توبہ کو کھیل اور مشغلہ بنا لیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء کر رہا ہے اور اس سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس گناہ کو اس کے لئے مباح کر دے اور علامہ قرطبی نے یہ نہیں کہا کہ دوبارہ گناہ کرنے سے اس کی پہلی توبہ ٹوٹ جائے گی بلکہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ اس نے پہلے یہ توبہ کی تھی کہ وہ آئندہ مستقبل میں وہ گناہ نہیں کرے گا اور جب اس نے وہ گناہ پھر کرلیا تو اس کی پہلی توبہ کا خلاف ثابت ہوگیا۔ (اکمال اکمال المعلم مع مکمل اکمال الاکمال ج ٩ ص 170-171 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

میں کہتا ہوں کہ علامہ قرطبی اور علامہ السنوسی کی عبارت کا محمل یہ ہے کہ جب آدمی کو دوبارہ گناہ کرتے وقت یہ یاد ہو کہ وہ اس گناہ سے پہلے توبہ کرچکا ہے لیکن وہ اس گناہ سے ممانتع کو غیر اہم اور معمولی سمجھ کر پھر دوبارہ وہ گناہ کرے اور یہ سوچے کہ اگر دوبارہ گناہ کر بھی لیا تو کیا ہوا پھر توبہ کرلیں گے تو یہ ایسی توبہ ہے جو کھیل اور مشغلہ کے مشابہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء کرنے کے مترادف ہے اور حدیث میں یہ صورت نہیں ہے، بلکہ حدیث میں یہ صورت ہے کہ ایک شخص نے کسی گناہ کے ارتکاب کے بعد الخاص کے ساتھ پکی توبہ کی لیکن شامت نفس، اغواء شیطان اور نفسانیت کے غلبہ سے اس نے پھر وہی گناہ کرلیا پھر اس کے بعد وہ نادم ہوا اور تائب ہو اور پھر پکی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا خواہ وہ بار بار گناہ میں مبتلا ہوا اور بار بار توبہ کرتا رہے۔

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں :

اگر وہ وہ سویا ہزار بار یا اس سے بھی زیادہ بار گناہ کرے اور ہر بار توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی اور اس کے گناہ ساقط ہوجائیں گے اور اگر تمام گناہوں سے ایک ہی بار توبہ کرے تب بھی اس کی توبہ صحیح ہے۔

اور یہ جو فرمایا ہے تو جو چاہے عمل کر میں نے تجھ کو بخش دیا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک تو گناہ کرنے کے بعد توبہ کرتا رہے گا۔ میں تجھ کو بخشتا رہوں گا۔ (صحیح مسلم مع الشرح النووی ج ١١ ص 6881، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

علامہ ابوالبع اس قرطبی مالکی متوفی 656 ھ نے لکھا ہے اس قول میں اس شخص کے متعلق یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پچھلے گناہوں کو بخش دیا اور آئندہ کے لئے اس کو گناہوں سے محفوظ کردیا ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے لئے ہر کام کو مباح کردیا ہے وہ جو چاہے کرے۔ علامہ تو ریشتی نے کہا ہے اس قسم کا کلام کبھی بطور غیظ و غضب کیا جاتا ہے اور کبھی بطور لطف و کرم کے کیا جاتا ہے، غیظ و غضب کی مثال یہ آیت ہے :

ان الذین یلجدون فی ایتنا لایحفون علینا افمن یلفی فی النار خیر ام یاتی امنا یوم القیمۃ اعملوا ماشنتم انہ بما تعلون بصیر (حم السجدہ :40) بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج بخشی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں، (بتائو ! ) جو آگ میں ڈال دیا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو امن و سلامتی کے ساتھ قیامت کے دن پیش ہو تو جو چاہو کرتے رہو، وہ تمہارے کرتوتوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

اور لطف و کرم کے ساتھ فرمانے کی یہ مثال ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاطب بن ابی بلتعہ کے متعلق فرمایا شاید کہ اللہ اہل بدر کی طرف متوجہ ہو اور فرمایا تم جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3983، صحیح مسلم رقم الحدیث :2494) (مکمل اکمال الاکمال ج ٩ ص 171-172 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)

توبہ کرنے، ایمان لانے اور اعمال صالحہ کرنے کے بعد ہدایت کے حصول کی توجیہ 

اس آیت میں فرمایا ہے اور بیشک میں اس کو ضرور بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہوں جو توبہ کرتا ہے ایمان لاتا ہے نیک عمل کرتا ہے پھر ہدایت پر جم جاتا ہے۔ آیت میں یہ الفاظ ہیں ثم اھتدی پھر وہ ہدایت حاصل کرتا ہے یا ہدایت پاتا ہے۔

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس کا توبہ کرننا، ایمان لانا اور نیک عمل کرنا ہدایت پر ہونے کی وجہ سے تو ہیں، پھر ان کے بعد یہ کیوں فرمایا پھر وہ ہدایت حاصل کرتا ہے، اس کی حسب ذیل توجیہات ہیں :

(١) ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا اس کو یقین ہوجاتا ہے کہ اس کو ان اعمال پر ثواب ملے ابن عباس (رض) سے روایت کیا اس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ امور اللہ کی توفیق سے ہیں۔ (٤) سعید بن جبیر نے کہا وہ سنت اور جماعت پر لازم رہتا ہے۔ (٥) ضحاک نے کہا وہ ان امور پر جم جاتا ہے۔ (٦) قتادہ نے کہا وہ تادم مگر اسلام پر قائم رہتا ہے۔ (٧) زید بن اسلم نے کہا اس کو یہ ہدایت حاصل ہوجاتی ہے کہ اس کو کس طرح عمل کرنا چاہیے۔ (٨) ثابت بنانی نے کہا اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کی ہدیات حاصل ہوجاتی ہے۔ (زاد المسیرج ٥ ص 312، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ) 

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ توبہ، ایمان لانے اور اعمال صالحہ کرنے سے مراد یہ ہو کہ اس کو ان امور کا علم دلائل سے حاصل ہوا اور ان امور کے مجموعہ کو شریعت سے تعبیر کرتے ہیں اور شریعت پر عمل کرنے کے بعد وہ اپنے ذہن کو فاسد خیالات سے اور اپنے قلب کو اخلاق مذمومہ سے پاک کرے اور صفاء باطن کے اس مرتبہ کو طریقت کہتے ہیں۔ اس مرتبہ کے بعد اس پر حقائق الاشیاء منکشف ہوجاتے ہیں اور اس کا قلب تجلیات ربانیہ کی جلوہ گاہ بن جاتا ہے اور اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضری نصیب ہوجاتی ہے اور اس مرتبہ کو لسان تصوف میں حقیقت سے تعبیر کرتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ توبہ، ایمان اور اعمال صالحہ سے مراد شریعت ہے اور ” ثم اھتدی “ سے مراد طریقت اور حقیقت ہے یعنی شریعت پر عمل کرنے کے بعد طریقت اور حقیقت حاصل ہوجاتی ہیں۔

کلمہ پڑھنے سے پہلے کفریہ عقائد سے اظہار برأت ضروری ہے 

اس آیت میں پہلے توبہ کا ذکر ہے پھر ایمان لانے کا ذکر ہے اس میں یہ دلیل ہے کہ ایمان لانے سے پہلے ضرویر ہے کہ انسان کفر سے توبہ کرے، اگر انسان کوئی کلمہ کفر یہ کہہ دے تو صرف کلمہ پڑھنے سے وہ مسلمان نہیں ہوگا جب تک وہ اس کلمہ کفر یہ سے توبہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی بدمذہب مثلاً شیعہ یاراقضی اہل سنت ہونا چاہیے یا کوئی عیسائی مسلمان ہونا چاہیے تو صرف کلمہ پڑھنے سے وہ اہل سنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک عقائد شیعہ سے توبہ اور برأت کا اظہار نہیں کرے گا۔ سو یہ لوگ پہلے کفر یہ عقائد سے توبہ کریں پھر کلمہ پڑھ کر ایمان لائیں پھر نیک اعمال کریں پھر اسی دین پر تادم مرگ قائم رہیں اور جمے رہیں اور ڈٹے رہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 82