أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ اَرَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَاَبٰى ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے فرعون کو سب نشانیاں دکھائیں اس نے پھر بھی جھٹلایا اور انکار کیا

توحید اور رسالت کے وہ دلائل جن کا فرعون نے انکار کیا 

اور بیشک ہم نے فرعون کو سب نشانیاں دکھائیں اس نے پھر بھی جھٹلایا اور انکار کیا (طہ :56)

سب نشانیوں سے مراد توحید اور رسالت پر دلائل ہیں، توحید پر یہ دلیل قائم کی کہ اللہ تعالیٰ نے جانداروں میں سے ہر چیز کو اس کی مخصوص ساخت پر پیدا کیا پھر ہر چیز میں اس کی خوراک کے حصول اور افزائش نسل کے طریقوں کی فطری ہدایت رکھی اور اللہ تعالیٰ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی بھی اس بات کا دعویٰ دار نہیں ہے کہ یہ کارنامہ اس نے انجام دیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور توحید پر ایک اور دلیل قائم کی کہ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائی اور آسمان سے پانی نازل کیا، پھر اس پانی سے مختلف قسم کی زمینی پیداوار کے جوڑے پیدا کئے، کھائو اور اپنے مویشیوں کو بھی چرائو، بیشک اس میں عقل مندوں کے لئے ہماری نشانیاں ہیں۔ یہ زمین اور اس کی پیداوار فرعون کے پیدا ہونے سے پہلے بھی موجود تھی لہٰذا فرعون کا خدائی کا دعویٰ جھوٹا ہوگیا، اسی طرح فرعون کے عالوہ جن انسانوں اور مورتیوں کو خدا کہا گیا ان سب سے پہلے یہ زمین موجود تھی اور اس کی روئیدگی بھی تھی۔ جس کے متعلق بھی خدائی کا دعویٰ کیا گیا وہ دعویٰ جھوٹا تھا اور صرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا سچا ہے کہ اس زمین کو اور اس کی روئیدگی کو اس نے پیدا فرمایا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر بھی نشانیاں اور معجزات دکھائے لیکن فرعون نے اس سب کی تکذیب کی اور انکار کیا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر جو معجزات دکھائے گئے وہ یہ ہیں :

(١) عصا

(٢) ید بیضاء

(٣) سمندر کو چیرنا

(٤) پتھر سے پانی نکالنا

(٥) فرعونیوں پر ٹڈیوں کو بھیجنا

(٦) ان پر جو ئوں کو بھیجنا

(٧) ان پر مینڈکوں کو بھیجنا

(٨) ان پر خون کی بارش کرنا

(٩) ان پر پہاڑ اٹھا کر معلق کردینا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 56