أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِىۡ فَاضۡرِبۡ لَهُمۡ طَرِيۡقًا فِى الۡبَحۡرِ يَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخۡشٰى ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ راتوں رات میرے بندوں کو لے جائیں ان کے لئے سمندر میں سے خشک راستہ نکالیں، آپ کو کسی کے پکڑنے کا خوف ہوگا نہ ڈر ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے موسیٰ کی طرف وحی فرمائی کہ آپ راتوں رات میرے بندوں کو لے جائیں پھر ان کے لئے سمندر میں سے خشک راستہ نکالیں آپ کو کسی کے پکڑنے کا خوف ہوگا نہ ڈر ہوگا پس رفعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا، پھر سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا جو ڈھانپ لیا اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا (طہ :77-79)

حضرت موسیٰ کا رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہونا 

جب فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نبی اسرائیل کو بھیجنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں اور ان کو فرعون کے قبضہ سے چھڑا لیں۔ سورة الشعراء میں اللہ تعالیٰ نے اس کو زیادہ تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ ، بنو اسرایئل کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوئے جب صبح ہوئی اور فرعون کو پتا چلا کہ بنو اسرائیل گھبرا گئے کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر ہے اگر پکڑے گئے تو پھر فرعون کی غلامی اور اس کا ظلم و ستم ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت م وسیٰ سے فرمایا پھر ان کے لئے سمندر سے خشک راستہ نکالیں یہ سمندر بحر قلزم تھا، آپ کو فرعون کے پکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ سمندر میں ڈوبنے کا خطرہ ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف یہ وحی کی کہ اپنے عصا کو سمندر پر ماریں، جب حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو سمندر پر مارا تو وہ بارہ حصوں میں منقسم ہو کر پھٹ گیا، پانی کا ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا اور بنو اسرائیل کے بارہ قبیلے ان بارہ رساتوں سے گزرنے لگے، پھر بنی اسرائیل نے کہا ہم کو اپنے ساتھیوں کی کچھ خبر نہیں اللہ جانے وہ صحیح و سلامت زگر رہے ہیں یا نہیں، تو پھر ان راستوں کی دیواروں میں کھڑکیاں اور روشن دان بن گئے وہ وہاں سے گزرتے جاتے تھے اور ایک دوسرے کو دیکھتے جاتے تھے اور باتیں کرتے جاتے تھے حضرت موسیٰ بنو اسرائیل کے بارہ گروہوں کے ساتھ اس سمندر سے پار گزر گئے بعد میں جب فرعون اور اس کا لشکر اس راستے سے گزرنے لگا تو سمندر آپس میں مل گیا اور فرعون اور قبطیوں پر مشتمل اس کا لشکر غرق ہوگیا، قتادہ نے کہا ہے کہ بنو اسرائیل چھ لاکھ تھے اور قبطی بارہ لاکھ تھے۔

بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے جانے کی حکمتیں 

بنو اسرائیل کو رات میں لے جانے کی یہ حکمتیں ہیں :

(١) جب بنو اسرائیل روانہ ہونے کے لئے جمع ہوں تو کسی کو ان کا پتا نہ چل سکے اور کسی کو ان کی تیاریوں کا علم ہو۔

(٢) فرعون اور اس کے حواری ان کے منصوبہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکیں اور راستہ میں ان کے مزاحم نہ ہوں۔

(٣) اور اگر بالفرض دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو حضرت موسیٰ کے اصحاب فرعون کے لشکر کو نہ دیکھ پائیں ورنہ وہ ڈر جاتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 77