أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰى ۞

ترجمہ:

اے موسیٰ ! آپ نے اپنی قوم کو چھوڑ کر آنے میں کیوں جلدی کی ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے موسیٰ ! آپ نے اپنی قوم کو چھوڑ کر آنے میں کیوں جلدی کی ؟ موسیٰ نے کہا وہ لوگ میرے پیچھے آ رہے ہیں اور اے رب ! میں نے تجھے راضی کرنے کے لئے جلدی کی فرمایا پس ہم نے آپ کے بعد آپ کی قوم کو فتنہ میں مبتلا کردیا اور ان کو سامری نے گم راہ کردیا (طہ :83-85)

حضرت موسیٰ کے عجلت کے ساتھ جانے کی توجیہ 

حافظ اسماعیل بن عمربن کثیر شافعی دمشقی متوفی 774 ھ لکھتے ہیں :

فرعون اور اس کی قوم کے ہلاک ہونے کے بعد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سمندر کے پار اترے تو وہاں انہوں نے ایک قوم کو دیکھا جو بتوں کی پرستش کر رہی تھی۔ بنو اسرائیل نے کہا اے موسیٰ ! ہمارے لیء بھی اسی طرح کا ایک معبود بنا دیجئے جس طرح ان لوگوں کے معبود ہیں، حضرت موسیٰ نے فرمایا تم لوگ کیسی جہالت کی باتیں کر رہے ہو، یہ تو بربادشدہ لوگ ہیں اور ان کی عبادت بھی باطل ہے، اور حضرت موسیٰ کے رب نے ان سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا تھا پھر ان میں دس راتوں کا اور اضافہ فرما دیا۔ یعنی ان چالیس دنوں میں دن اور رات روزے رکھیں۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کا کلام سننے کے شوق میں جلدی جلدی روانہ ہوئے اور بنو اسرائیل کی دیکھ بھال اور ان کو ہدایت پر قائم رکھنے کے لئے اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ مقرر کردیا اور خود طور کی طرف چل پڑے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے موسیٰ ! آپ نے اپنی قوم کو چھوڑ کر آنے میں کیوں جلدی کی ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب عالم ہے لیکن اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل کو تسکین دینے کے لئے اور ان کی عزت افزائی کے لئے یہ سوال کیا تھا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص 180، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1419 ھ)

علامہ ابوعبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کلام کے جلال سے متحیر ہوگئے اور بجائے اس کے کہ عجلت کا سبب بیان کرتے یہ کہا وہ لوگ میرے پیچھے آ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کے سوال کی طرف متوجہ ہوئے اور عجلت کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا اے میرے رب ! میں نے تیرے پاس آنے میں اس لے جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے۔

حضرت موسیٰ نے جو یہ کہا تھا کہ وہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔ اس سے ان کی یہ مراد نہیں تھی کہ وہ لوگ ان کے پیچھے پیچھے رہے ہیں یعنی وہ بھی طور کی طرف آ رے ہیں، بلکہ ان کی مراد یہ تھی کہ وہ بھی یہاں پر قریب ہیں اور میری واپسی کا انتظار کر رہے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کو یہ حکم دیا تھا کہ ان کے روانہ ہونے کے بعد وہ بھی بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوں اور ان کے ساتھ آ کر مل جائیں اور بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں قوم سے مراد وہ ستر نفوس ہیں جن کو حضرت موسیٰ نے چن لیا تھا وہ بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ روانہ ہوئے تھے لیکن جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کے شوق میں ان سے آگے نکل گئے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پوچھا آپ نے اپنی قوم سے پہلے پہنچنے میں کیوں عجلت کی۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق طور سینا کی طرف روانہ ہوئے تو اپنے رب کی طرف مشتاق ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق کی شدت کی وجہ سے یہ مسافت ان پر طویل ہوگئی پھر وہ صبر نہ کرسکے اور ان لوگوں کو چھوڑ کر اکیلے ہی چل پڑے پھر جب اپنے مقام پر ٹھہرے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ نے اپنی قوم کو چھوڑ کر آئے میں کیوں جلدی کی ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 83