أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ قَدۡ اَنۡجَيۡنٰكُمۡ مِّنۡ عَدُوِّكُمۡ وَوٰعَدۡنٰكُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰى ۞

ترجمہ:

اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے (کوہ) طور کی دائیں جانب کا وعدہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے بنی اسرائیل بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے (کوہ) طور کی دائیں جانب کا وعدہ کیا اور تم پر من وسلویٰ نازل کیا ان پاک چیزوں سے کھائو جو ہم نے تم کو دی ہیں اور ان میں حد سے نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ یقینا تباہ ہوگیا اور بیشک میں اس کو ضرور بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہوں جو توبہ کرتا ہے، ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے پھر ہدایت پر جم جاتا ہے (طہ :80-82)

بنی اسرائیل کو نعمتیں یاد دلانا 

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان انواع و اقسام کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے بنی اسرائیل پر انعام پر فرمائیں تاکہ وہ ان نعمتوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس کی زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، یہ نعمتیں دو قسم کی تھیں ایک قسم یہ تھی کہ ان سے آلام اور مصائب کو دور کیا، اور دوسری قسم یہ تھی کہ ان کو خوش حالی اور راحتیں عطا فرمائیں اور چونکہ ضرر کو زائل کرنا نفع پہنچانے پر مقدم ہوتا ہے، اس لئے پہلے ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو ازالہ ضرر کے قبیل سے تھیں، اس لئے فرمایا اے بنی اسرائیل ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، کیونکہ فرعون ان پر انواع و اقسام کے مظالم ڈھایا کرتا تھا، وہ ان کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردیتا تھا اور ان سے گھٹیا اور خسیں قسم کی مشقت لیتا تھا اور ان سے بےگار لیتا تھا۔ پھر اس کے بعد ان کو جو نفع پہنچایا ان نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان پر کتاب نازل فرمائی جس میں ان کے اصول اور عقائد کا بیان اور فروع اور احکام شرعیہ کا ذکر تھا۔ یہ ان کے حق میں دینی نعمت تھی اور ان کے حق میں دنیاوی نعمت یہ تھی کہ میدان تیہ میں ان پر من اور سلویٰ نازل فرمایا اور کھانے کے لئے ان کو پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور ان احکام کی نافرمانی کرنے سے ان کو ڈرایا اور فرمایا اگر تم نے میری نافرمانی کی تو تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ بیشک تباہ ہوگیا اور جو لوگ کسی غلطی اور لغزش سے معصیت کے مرتکب ہوں اور پھر اس غلطی پر نادم اور تائب ہوں ان کو بخش کی نوید سنائی۔

طور کی دائیں جانب جانے کا بیان 

مفسرین نے ذکر کیا ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر سمندر کے پار گئے تو بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کیا آپ نے ہم سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہمارے پاس ہمارے رب کی طر سے فرائض اور احکام پر مشتمل ایک کاتب آئے گی ! حضرت موسیٰ نے فرمایا ہاں، پھر حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے پاس جانے کی جلدی کی تاکہ بنی اسرائیل کے پاس کتاب لے کر آئیں اور ان سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اپنے جانے کے بعد ان کے پاس کتاب لے کر آجائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان کو بنی اسرائیل کے لئے تورات عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا ہم نے تم سے (کوہ) طور کی دائیں جانب کا وعدہ کیا تھا، ہرچند کہ یہ وعدہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا لیکن چونکہ یہ وعدہ بنو اسرائیل کی وجہ سے کیا تھا اس لئے فرمایا ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا۔

اس آیت میں فرمایا ہے طور کی دائیں جانب کا وعدہ کیا تھا۔ فی نفسہ طور کی کوئی دائیں یا بائیں جانب نہیں ہے۔ البتہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص مصر سے شام کی طرف جائے تو پہاڑ طور اس کی دائیں جانب ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 80