تفسیر اور تاویل کی تعریف:

مفسرین نے تفسیراور تاویل کی مختلف تعریفات کی ہیں ،ان میں سے تفسیر کی ایک تعریف یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے وہ احوال بیان کرنا جو عقل سے معلوم نہ ہوسکیں بلکہ ان میں نقل کی ضرورت ہو جیسے آیات کا شانِ نزول یا آیات کا ناسخ و منسوخ ہونا بیان کرنا۔

تاویلِ قرآن کی ایک تعریف یہ ہے کہ قرآنی آیات کے مضامین اور ان کی باریکیاں بیان کی جائیں اور صرفی و نحوی قواعد اور دیگر علوم کے ذریعے قرآنی آیات سے طرح طرح کے نکات نکالے جائیں۔

تفسیر اور تاویل کا شرعی حکم:

قرآنِ مجید کی تفسیر اپنی رائے سے بیان کرنا حرام ہے اور اپنے علم ومعرفت سے قرآن کی جائز تاویل بیان کرنا اہل علم کے لئے جائز اور باعث ثواب ہے۔

حضرت علامہ سلیمان جمل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ شرائط کے ساتھ تاویل بِالرّائے یعنی رائے سے تاویل کے جواز جبکہ تفسیر بالرائے یعنی رائے سے تفسیر کے ناجائز ہونے میں راز یہ ہے کہ تفسیر تواللہ تعالیٰ پر گواہی دینا اور اس بات کایقین کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ کے یہ ہی معنی مراد لئے ہیں اور یہ بغیر بتائے جائز نہیں ، اسی لئے امام حاکم رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فیصلہ کر دیا کہ صحابی کی تفسیر مرفوع حدیث کے حکم میں ہے اور تاویل چند احتمالات میں سے بعض کو یقین کے بغیر ترجیح دینے کا نام ہے(اس لئے یہ بغیر بتائے اہل علم کے لئے جائز ہے۔) (جمل، مقدمۃ، ۱/۳)