حج کی پابندی

اَلْحَجُّ اَشْْہُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ َو لاَ فُسُوْقَ وَلاَ جِدَالَ فِی الْحَجِّ۔ (پ؍۲ع؍۹)

حج کے کئی مہینے ہیں جانے ہوئے تو جو ان میں حج کی نیت کرے تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ،نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت تک (کنز الایمان )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو!مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ  نے حج میں تین چیزوں سے خاص طور پر منع فرمایا ہے (۱)شہوت کو ابھارنے والی حرکات (۲)فسق و فجور(۳)لڑائی جھگڑے۔ اس لئے کہ شیطان حاجی کی توجہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹا کر دوسرے کاموں کی طرف لگانا چاہتا ہے تا کہ بندہ حج کی برکتوں سے محروم ہو جائے اور حج جن عادتوں سے نجات دلا کر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فرمان کا پیکر بنانا چاہتا ہے اس سے وہ محروم رہ جائے۔ ویسے تو جھگڑے فساد،فسق و فجور تو کبھی بھی جائز نہیں لہٰذا چاہئے کہ حج کے ایام میں مذکورہ تینوں چیزوں سے اپنے دامن کو بچائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ د کے فرمان پر عمل بھی ہو جائیگا اور حج کی برکتیں بھی حاصل ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایام حج کا احترام کرنے اور فسق و فجور اور لڑائی جھگڑے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم