عموماً مرزا جہلمی اور اسکے ماننے والوں سے سنا ہوگا کہ قرآن کو سمجھنے کیلئے مدرسے میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ایک ترجمے والا قرآن لاؤ گھر بیٹھ کر خود ہی پڑھو تو قرآن سمجھ آجائے گا۔

حیرت ہوتی ھے کہ ان گونگے (عجمی) لوگوں کو تو گھر بیٹھے بٹھائے فقط ترجمہ پڑھنے سے ہی قرآن فہمی حاصل ہوجائے۔لیکن جو پیدائشی طور پر عربی ہیں انکو قرآن کی ایک آیت کی تفسیر جاننے کیلئے کئی میل کا سفر کرنا پڑے ۔

شعبی نے کہا کہ مسروق کی ایک آیت کی تفسیر کیلئے بصرہ کا سفر کیا۔انھیں بتایا گیا جو اس آیت کی تفسیر بیان کرتا تھا وہ شام چلا گیاہے۔پس مسروق نے تیاری کی اور شام تک سفر کیا حتی کہ اس آیت کی تفسیر جان لی۔

(تفسیر قرطبی، جلد اول، ص 54 ،مترجم، مکتبہ ضیاءالقرآن)

علم کی دنیا کے بےتاج بادشاہ کہ جنکی علمیت کا ڈنکا آج بھی بج رہا ھے وہ تو قرآن فہمی کیلئے ایک استاذ کے محتاج ہیں لیکن فی زمانہ مدرسے سے بھگوڑا انسان کہتا ھے استاذ کی کوئی ضرورت نہیں گھر بیٹھے بٹھائے ہی قرآن کو سمجھ سکتے ہو۔

اللہ اسکے شر سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے آمین

احمدرضارضوی