أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الۡمَلِكُ الۡحَـقُّ‌ ۚ وَلَا تَعۡجَلۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يُّقۡضٰٓى اِلَيۡكَ وَحۡيُهٗ‌ۖ وَقُلْ رَّبِّ زِدۡنِىۡ عِلۡمًا ۞

ترجمہ:

پس بلند شان والا ہے اللہ جو سچا بادشاہ ہے اور اس سے پہلے کہ آپ کی طرف پوری وحی کی جائے آپ قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیجیے اور آپ دعا کیجیے کہ اے میرے رب ! میرے علم کو زیادہ کر دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس بلند شان والا ہے اللہ جو سچا بادشاہ ہے، اور اس سے پہلے کہ آپ کی طرف پوری وحی کی جائے آپ قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیجیے اور آپ دعا کیجیے کہ اے میرے رب ! میرے علم کو زیادنہ کر دے (طہ :114)

اللہ تعالیٰ کی تعظیم پر تنبیہ 

اس آیت میں یہ تنبیہ کی ہے کہ مخلوق پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا بادشاہ ہے کیونکہ اس کی بادشاہی ذاتی ہے، کسی سے مستفاد نہیں ہے، اس کی بادشاہی کو زوال ہے نہ اس میں تغیر ہے، اور نہ اس کے علاوہ کوئی اور اس کی بادشاہی کے لائق ہے۔ وہ بلند اور برتر ہے، وہم اور عقل اس کی بلندی کا تصور نہیں کرسکتے۔ وہ اپنی ذات کے لئے نفع کے حصول اور اپنی ذات سے ضرور کو دور کرنے سے منزہ ہے، اس نے قرآن مجید کو اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگ وہ کام نہ کریں جو نامناسب ہیں اور وہ کام کریں جو کرنے چاہئیں، کسی کی اطاعت اور عبادت سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور کسی کی معصیت اور حکم عدولی سے اس کو کوئی ضرر نہیں ہوتا۔ جو اطاعت کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کے لئے کرتا ہے اور جو نافرمانی کرتا ہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے، اس کی توفیقف سے بندہ اطاعت کرتا ہے اور اپنے نفس کی شامت اور شیطان کے بہکانے سے انسان گناہ کرتا ہے۔

قرآن کی تلاوت میں عجلت سے ممانعت کی وجوہ 

اور اس سے پہلے کہ آپ کی طرف وحی کی جائے آپ قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

(١) ابو صالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ حضرت جبریل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی سورت یا آیت لے کر نازل ہوتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کی تلاوت کرتے، ابھی جبریل وہ پوری سورت یا آیت ختم نہ کرتے تھے کہ آپ ابتداء سے پڑھنا شروع کردیتے اس خوف سے کہ آپ اس کا کچھ حصہ بھول جائیں گے۔

(٢) مجاہد اور قتادہ نے کہا آپ پر جو سورت یا آیت نازل کی گئی آپ اس کی تلاوت اپنے اصحاب پر اس وقت تک نہ کریں جب تک کہ آپ کو اس کے معانی نہ بتا دیئے جائیں۔

(٣) جب تک اللہ تعالیٰ ازخود آپ پر کوئی سورت یا آیت نازل نہ کرے آپ اس کو نازل کرنے کا سوال نہ کریں اور فرمایا آپ دعا کریں اے میرے رب میرے علم کو زیادہ کر، یعنی زیادہ قرآن نازل فرما، یا اس کی فہم زیادہ فرمایا اس کا حفظ زیادہ فرما۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 326-327 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 114