أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فَاذۡهَبۡ فَاِنَّ لَـكَ فِى الۡحَيٰوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ‌ۖ وَاِنَّ لَـكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ‌ ۚ وَانْظُرۡ اِلٰٓى اِلٰهِكَ الَّذِىۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا‌ ؕ لَّـنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَـنَنۡسِفَنَّهٗ فِى الۡيَمِّ نَسۡفًا‏ ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا اب تو یہاں سے چلا جا، اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ اور تجھ سے آخرت میں سزا کا وعدہ ہے جس سے تو ہرگز نہیں بچ سکے گا، اور تو اپنے اس (خود ساختہ) معبود کو دیکھ جس کی عبادت پر تو جما بیٹھا تھا ہم اس کو ضرور جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں پھینک دیں گے

سامری کی دنیا میں سزا 

طہ :97 میں ہے موسیٰ نے کہا اب تو یہاں سے چلا جا اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ اور تجھ سے آخرت میں سزا کا وعدہ ہے جس سے تو ہرگز نہیں بچ سکے گا۔ حضرت موسیٰ نے جو فرمایا تھا کہ اب تو زندگی بھر یہی کہے گا ” مجھے مت چھونا “ ان کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

(١) جب کوئی شخص اس کو چھوتا تو اس کو اور چھونے والے کو دونوں کو بخار چڑھ جاتا اس لئے جب کوئی شخص اس کو چھونے کا ارادہ کرتا تو وہ خوف سے چلاتا مجھے مت چھونا۔

(٢) حضرت موسیٰ نے اس کو محلہ سے نکال دیا تھا اور اس کو کسی آبادی میں رہنے سے منع کردیا تھا اور تمام لوگوں کو اس سے ملنے جلنے سے منع کردیا تھا وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں پڑا رہتا تھا اور افسوس سے یہ کہتا رہتا تھا مجھ سے کوئی ملتا جلتا نہیں ہے اور یہی لامساس کا معنی ہے یعنی مجھے کوئی مس نہیں کرتا کوئی چھوتا نہیں ہے۔

(٣) لامساس کا معنی یہ ہے کہ اس کو عورتوں کے مس سے محروم کردیا گیا تھا اور اس کی نسل منقطع کردی گئی اور جسمانیفطرت کے تقاضوں کی لذت اس سے سلب کرلی گئی تھی۔

سامری کے بچھڑے کو جلاکر راکھ کرنا 

جس بچھڑے کو اس نے معبود بنایا تھا حضرت موسیٰ نے اس کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا : اور تو اپنے اس (خود ساختہ) معبود کو دیکھ جس کی عبادت پر تو جما بیٹھا تھا ہم اس کو ضرور جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں پھینک دیں گے (طہ :97) 

سامری کے اس بچھڑے کے متعلق ہم نے دو قول ذکر کئے تھے ایک یہ کہ وہ سونے کا مجسمہ تھا اور جب اس میں حضرت جبریل کی سواری کے پائوں کے نیچے کی خاک ڈالی تو وہ اس خاک کی برکت سے بیل کی سی آواز نکالنے لگا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ گوشت پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہو یا تھا، اس آیت میں ان مفسرین کی تائید ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ اس خاک کی برکت سے گوشت پوست کے ساتھ زندہ ہوگیا تھا، کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے حضرت موسیٰ نے اس کو جلا کر راکھ دیا اور سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مجسمہ گوشت، پوست اور خون کے ساتھ زندہ ہوگیا تھا، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ذبح کیا اور جلا کر رکھ دیا اور جو مفسرین یہ کہتے ہیں کہ وہ سونے کا مجسمہ ہی تھا اور خاک ڈالنے کی برکت کی وجہ سے صرف بیل کی سی آواز نکالنے لگا تھا وہ اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ بیشک سونا جل کر راکھ نہیں ہوتا، لیکن یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا کہ وہ جل کر راکھ ہوگیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 97