أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يٰسَامِرِىُّ‏ ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا اے سامری ! تیرا کیا معاملہ ہے

حضرت موسیٰ کا سامری کو ملامت کرنا 

جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ مکالہ سے فارغ ہوگئے اور بنو اسرائیل کو سرزنش نہ کرنے کے متعلق ان کا عذر قبول کرلیا تو اب سامری کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ سامری اس وقت وہیں موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کہیں اور ہوا اور اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بلایا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس حضرت موسیٰ خود گئے ہوں تاکہ اس سے خطاب کریں۔ بہرحال حضرت موسیٰ نے اس سے پوچھا تیرا کیا معاملہ ہے یعنی تو نے اس بچھڑے کو معبود کیوں بناا تھا ؟ سامری نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہیں دیکھی تو میں نے اللہ کے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی پھر اس مٹھی بھر خاک کو بچھڑنے کے مجسمہ میں ڈال دیا، میرے دل نے یہی بات بنائی تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 95