أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنْۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَ‌ ۚ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ذِكۡرًا ۞

ترجمہ:

ہم اسی طرح آپ پر گزشتہ خبروں کا بیان فرماتے ہیں اور بیشک ہم اپنے پاس سے آپ کو ذکر قرآن عطا فرما چکے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم اسی طرح آپ پر گزشتہ خبروں کا بیان فرماتے ہیں اور بیشک ہم اپنے پاس سے آپ کو ذکر (قرآن) عطا فرما چکے ہیں اور جس شخص نے اس سے منہ موڑا وہ یقینا قیامت کے دن (بہت وزنی) بوجھ اٹھائے گا وہ ہمیشہ اسی بوجھ میں رہے گا اور قیامت کے دن اس کے لئے وہ کیسا برا بوجھ ہوگا جس دن میں صور میں پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اٹھائیں گے اس دن ان کی آنکھیں نیلگوں ہوں گی وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے تم صرف دس دن ٹھہرے تھے ہم کو خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کہیں گے جب ان کے نزدیک سب سے اچھے طریقہ والا یہ کہے گا کہ تم تو صرف ایک دن ٹھہرے تھے (طہ :99-104)

قرآن مجید پر ذکر کا اطلاق 

اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری کے ساتھ تفصیل سے قصہ بیان فرمایا، پھر اس کے بعد دوسری امتوں کی خبریں اور ان کے احوال بیان فرمائے۔ سو ارشاد فرمایا ہم اسی طرح آپ پر گزشتہ خبروں کا بیان فرماتے ہیں تاکہ آپ کا علم اور آپ کی شان زیادہ ہو اور آپ کے معجزات کی کثرت ہو، کیونکہ ہر آیت کئی وجوہ سے معجزہ ہوتی ہے اور آپ کی امت کے لئے عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے کے زیادہ مواقع ہوں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ذکر فرمایا ہے اسی طرح اور بھی کئی آیات میں قرآن مجید کو ذکر فرمایا ہے : وھذا ذکر مبارک انزلنہ (الانبیاء :50) یہ ذکر مبارک ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ وانہ لذکرلک (الزخروف : ٤٤) اور یہ قرآن آپ کے لئے ذکر ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر : ٩) بیشک ہم نے الذکر کو نالز کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم (النحل : ٤) اور ہم نے آپ کی طرف الذکر کو نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو بیان کریں کہ ان کی طرف کیا نازل کیا گیا ہے۔

قرآن مجید پر ذکر کے اطلاق کی وجوہ :

قرآن مجید کو الذکر فرمانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) لوگوں کو دین اور دنیا کے تمام شعبوں اور تمام چیزوں میں جس ہدایت اور رہنمئا کی ضرورت ہوتی ہے اس سب کا تفصیل سے قرآن مید میں ذکر ہے۔

(٢) اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی قوم کے شرف اور فضیلت کا ذکر ہے انہ لذکر لک و لقومک۔ (الزخروف : ٤٤ )

(٣) اس میں اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا ذکر ہے اور اس میں تذکیر اور مواعظ ہیں۔

(٤) اس میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا ذکر ہے پچھلی اقوام کا، ان کے ایمان لانے والوں کا، ان کے کافروں کا اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کا ذکر ہے جس سے عبرت اور نصیحت حاصل ہوتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 99