أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَّا تَرٰى فِيۡهَا عِوَجًا وَّلَاۤ اَمۡتًا ۞

ترجمہ:

آپ اس زمین میں نہ کوئی کجی دیکھیں گے نہ اونچ نیچ

العوج اور امت کے معنی 

طہ :107 میں ہے آپ اس زمین میں نہ کوئی کجی دیکھیں گے اور نہ کوئی اونچ نیچ، اس آیت میں عوج اور امت کے الفاظ ہیں۔

العوج (عین پر زبر) کا معنی ہے کسی نصب شدہ چیز کو موڑنا عرب کہتے ہیں عجت البعیر بزمامہ میں نے مہار کے ساتھ اونٹ کو موڑ دیا، جس کا ٹیڑھا پن آنکھ سے دیکھا جائے اس کو صزبر کے ساتھ) عوج کہتے ہیں۔ جیسے زمین میں کوئی ٹیڑھی لکڑی گاڑی ہوئی ہو اور جس چیز کی کجی اور ٹیڑھے پن کو فکر اور بصیرت سے معلوم کیا جائے اس کو عوج (عین کی زیر) کہتے ہیں جیسے کسی کے دین اور اس کے ذریعہ معاش میں کجی ہو۔ قرآن مجید میں ہے :

قرانا عربیتا غیر ذی عوج (الزمر :28) الذین یصدون عن سبیل اللہ ویبغونھا عوجاً (الاعراف :45) قرآن عربی زبان میں بغیر کجی کے۔ جو اللہ کے راست ہ سے اعراض کرتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اور جو شخص بداخلقا ہوں اس کو عوج کہتے ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص 456، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1418 ھ) 

امنا کا معنی ہے ٹیلہ، بلندی، نشیب و فراز، کسی چیز کا مختلف ہونا۔ (القاموس ج ١ ص 313 بیروت، 1412 ھ)

اس آیت میں فرمایا ہے آپ زمین میں نہ کوئی کجی دیکھیں گے نہ کوئی اونچ نیچ اور کجی کے لئے عوج (عین کی زیر) کا لفظ ذکر فرمایا ہے۔ حالانکہ عوج اس کجی کو کہتے ہیں جس کا فکر اور بصیرت سے ادراک ہو نہ کہ آنکھ سے اور زمین میں جو کجی اور ٹیڑھ پن ہوتا ہے اس کا آنکھ سے ادراک کیا جاسکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں زمین کے ہموار ہونے کے بہت مبالغہ کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ یعنی وہ زمین اس قدر ہموار ہوگی کہ اس میں کوئی بایرک سی کجی بھی نہیں ہوگی جس کو بہت غور و فکر کے ساتھ جانا جاسکے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 107