أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفۡنَا فِيۡهِ مِنَ الۡوَعِيۡدِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ اَوۡ يُحۡدِثُ لَهُمۡ ذِكۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن نازل کیا ہے اور اس میں کئی قسم کی سزائوں کی خبر سنائی ہے تاکہ لوگ ڈریں یا وہ سزا کی خبر ان کے دلوں میں نصیحت پیدا کر دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن نازل کیا ہے اور اس میں کئی قسم کی سزائوں کی خبر سنائی ہے تاکہ لوگ ڈریں یا وہ (سزا کی خبر) ان کے دلوں میں نصیحت پیدا کر دے (طہ :113)

قرآن مجید کی صفات 

اس آیت میں قرآن مجید کی دو صفتیں بیان فرمائی ہیں ایک یہ کہ یہ عربی زبان میں ہے اور دوسری یہ کہ اس میں کئی قسم کی سزائوں کی خبر ہے۔ قرآن مجید کو عربی زبان میں اس لئے نازل فرمایا کہ عرب اس کو سمجھ سکیں اور وہ قرآن مجید کے معجز ہونے کی وجوہ کو جان سکیں، تاکہ ان پر یہ منکشف ہوجائے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ دوسری صفت یہ ہے کہ اس میں کئی قسم کی سزائوں کی خبر ہے۔ یعنی ہم نے ان خبروں کو بار بار بیان فرمایا ہے اور ان کی تفصیل کی ہے اور ہم نے وہ احکام بیان فرمائے جن کو ہم نے فرض کیا ہے اور ان احکام کی تعمیل نہ کرنے پر ہم نے سزائوں کو بیان فرمایا ہے، اسی طرح جن کاموں کو ہم نے حرام کیا ہے ان کے کرنے پر ہم نے سزائوں کو بیان کیا ہے تاکہ لوگ فرائض اور واجبات کو ترک کرنے اور محرمات کا ارتکاب کرنے سے ڈریں اور ان کے دلوں میں نصیحت اور خوف خدا پیدا ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 113