أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِىَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهٗ عَزۡمًا۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد یا تھا، پس وہ بھول گئے اور ہم نے ان کا نافرمانی کرنے کا قصد نہیں پایا ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا، پس وہ بھول گئے اور ہم نے ان کا (نافرمانی کرنے کا) قصد نہیں پایا۔ (طہ :115)

نسیان کے باوجود حضرت آدم پر عتاب کیوں ہوا 

عہد لینے سے مراد یہ ہے کہ ہم نے آدم کو اس درخت کے قریب جانے یا اس کے پھل کھانے سے منع کیا تھا اور فرمایا ” اس سے پہلے “ اس سے مراد یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے یا قرآن مجید کو نازل کرنے سے پہلے اور فرمایا وہ بھول گئے یعنی انہوں نے دانستہ اور عمداً اور نافرمانی کرنے کے قصد سے اس درخت سے نہیں کھایا، اس پر سوال ہے کہ جب وہ بھول گئے تھے تو ان پر عتاب کیوں کیا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ عتاب اس وجہ سے کیا گیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کو ہر وقت ذہن میں مستحضر کیوں نہیں رکھا اور ایسے امور میں کیوں مشغول ہوئے جن کی وجہ سے ان پر نسیان طاری ہوا۔

حضرت آدم کا اولوالعزم رسول نہ ہونا 

اس سورت میں چھٹی بار حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا ہے۔ پہلی بار یہ قصہ سورة البقرہ میں بیان فرمایا ہے۔ دوسری بار سورة الاعراف میں تیسری بار سورة الحجر میں، چوتھی بار سورة بنی اسرائیل میں پانچویں بار سورة الکہف میں اور چھٹی بار سورة طہ میں یہاں پر۔

اس قصہ کی اس سورت سے مناسبت یہ ہے کہ اس سورت میں فرمایا تھا :

کذلک نقص علیک من انبآء ماقد سبق : (طہ :99) اور اسی طرح ہم آپ کے اوپر گذرے ہوئے واقعات کے قصے بیان کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے حضرت آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ شیطان کے بہکانے میں آجاتے ہیں حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ شیطان ان کا کھلا دشمن ہے۔ اس کے باوجود وہ احتیاط نہیں کرتے اور اپنے آپ کو شیطان سے محفوظر کھنے کے اسباب کو اختیار نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قصہ میں یہ بتایا ہے کہ یہ امر قدیم ہے حضرت آدم کو بھی بتادیا گیا تھا کہ شیطان ان کا کھلا دشمن ہے اس کے باوجود انہوں نے احتیاط نہیں کی اور ان اسباب کو اختیار نہیں کیا جن سے وہ شیطان کے بہکانے میں نہ آتے، وہ بھول گئے اس طرح ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے اور شیطان کے بہکانے میں آجاتی ہے۔

علامہ ابن عطیہ اندلسی نے اس مناسبت کو رد کردیا اور کہا ہے کہ اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخفیف ہے اور ان کے معاملہ کو کفار اور نافرمانوں کے ساتھ تشبیہ دینا ہے۔

قرآن مجید میں جو فرمایا ہے ” ولم نجدلہ عزما “ ہم نے (حضرت) آدم کا کوئی عزم نہیں پایا، اس کی ایک تقریر تو وہ ہے جو ہم بیان کرچکے ہیں کہ وہ بھول گئے تھے اور ہم نے معصیت اور نافرمانی کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں پایا اور اس آیت کی دسوری تقریر یہ ہے :

علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے حضرت آدم کو بتادیا تھا کہ آپ اس درخت سے نہ کھائیں لیکن جب شیطان نے ان کو بہکایا تو اس نصیحت پر کاربند رہنے کے لیے ہم نے ان کا عزم نہیں پایا جب کہ ان کو بتادیا گیا تھا کہ شطان ان کا دشمن ہے، حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا اس کا معنی ہے اس درخت کو کھانے سے رکنے پر ہم نے ان کا صبر نہیں پایا اور ہماری ممانعت پر قائم رہنے کا عزم نہیں پایا، النحاس نے کہا عزم کا لغت میں بھی یہی معنی ہے کہا جاتا ہے فلاں نے عزم کیا یعنی خود کو معصیت سے بچانے پر ثابت قدم رہا اور صبر کیا، اسی اعتبار سے فرمایا :

فاصبر کما صبراولوا العزم من الرسل (الاحقاف :35) پس آپ صبر کیجیے جس طرح عالی ہمت رسولوں نے صبر کیا۔

حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے : میں نے جس چیز سے منع کیا تھا انہوں نے اس ممانعت کی حفاظت نہیں کی، جب ابلیس نے ان سے کہ کا اگر آپ نے اس معین درخت سے کھالیا تو آپ کو جنت میں خلود اور دوام حاصل ہوجائے گا تو انہوں نے اس کی بات نہیں مانی اور جب ابلیس نے اسی نوع کے دور سے درخت سے کھانے کے لئے کہا تو انہوں نے تاویل کر کے اس درخت سے کھالیا اور یہ بھول گئے کہ یہ درخت بھی ممانعت کے عموم میں داخل ہے، ابن زید نے کہا حضرت آدم نے اللہ تعالیٰ کے امر کی حفاظت نہیں اسی لئے علماء کی ایک جماعت نے ہا ہے کہ وہ اولوالعزم رسولوں میں سے نہ تھے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص ١٦٤، مطبوع دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت ابراہیم بھی اولوالعزم رسول نہ تھے کیونکہ انہوں نے تین مواقع پر ظاہری جھوٹ بول کر رخصت پر عمل کیا اور عزیمت پر عمل نہ کیا، جب کہ حضرت غوث اعظم نے ڈاکوئوں کے سامنے سچ بول کر عزیمت پر عمل کیا اور مال بچانے کے لئے جھوٹ بول کر رخصت پر عمل نہیں کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض مواقع پر رخصت پر عمل مطلوب ہوتا ہے اور عزیمت پر عمل مطلوب نہیں ہوتا اگر روزہ دار کی جان کو خطرہ ہو اور وہ جان بچانے کے لئے رخصت پر عمل نہ کرے اور عزیمت پر عمل کرتے ہوئے روزہ برقرار رکھے تو وہ گناہگار ہوگا اور مرگیا تو حرام موت مرے گا۔ ایک سفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان میں مکہ جا رہے تھے آپ نے کراع الغمیم پہنچ کر روزہ رکھا اور لوگوں نے بھی روزہ رکھا، پھر بعد میں سب کے سامنے پانی پی کر روزہ افطار کر لای۔ آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگ روزے پر برقرار رہے آپ نے فرمایا وہ نافرمان ہیں، وہ نافرمان ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٤، سنن الترمذی رقم الحدیث :710، سنن النسائی رقم الحدیث :2262) حضرت ابراہیم نے جن تین مواقع پر رخصت پر عمل کیا تھا وہاں وہی عمل اولیٰ تھا۔ رہا یہ کہ آپ نے اپنے اس عمل کی وجہ سے شفاعت نہیں کی تو وہ آپ کی تواضح اور آپ کا انکسار ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 115