أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا ۞

ترجمہ:

اور جو شخص ایمان کی حالت میں نیک اعمال کرے گا اسے نہ کسی ظلم کا خوف ہوگا اور نہ کسی نقصان کا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو شخص ایمان کی حالت میں نیک اعمال کرے گا اسے نہ کسی ظلم کا خوف ہوگا نہ کسی نقصان کا 

اس سے پہلی آیتوں میں قیامت کے دن کافروں کا حال بیان فرمایا تھا اور اس آیت میں قیامت کے دن مومنوں کا حال بیان فرمایا ہے، ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس جگہ رکھنا جو اس کا محل نہ ہو، مثلاً کسی شخص کو بغیر جرم کے سزا دینا اور ہضم کا معنی ہے نقص اور کمی یعنی قیامت کے دن مومنوں کو نہ بغیر جرم کے سزا دی جائے گی اور نہ ان کے ثواب میں کمی کی جائے گی۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے :

فمن یومن بربہ فلا یخاف بخسا ولا رھقاً (الجن :13) اور جو شخص اپنے رب پر ایمان لائے گا اسے کسی نقصان کا خطرہ ہوگا نہ کسی ظلم کا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 112