أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡجِبَالِ فَقُلۡ يَنۡسِفُهَا رَبِّىۡ نَسۡفًا ۞

ترجمہ:

اور لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ کہیے میرا رب انہیں ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور لوگ آپ سے پہاڑوں کے منتقل سوال کرتے ہیں، آپ کہیے میرا رب انہیں ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا اور زمین کو کھلے ہوئے ہموار میدان کی حالت میں چھوڑ دے گا آپ اس زمین میں نہ کوئی کجی دیکھیں گے نہ اونچ نیچ اس دن سب لوگ پکارنے والے کے پیچھے جائیں گے، اس میں کوئی کجی نہیں ہوگی اور رحمٰن کے خوف سے سب کی آوازیں پست ہوں گی سو (اے مخاطب ! ) تو معمولی سی آہٹ کے سوا کچھ نہ سن سکے گا (طہ :105-108)

قیامت کے وقوع پر کفار کا شبہ 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ جو لوگ الذکر یعنی قرآن مجید سے اعراض کرتے ہیں قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا اور قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے ان کا ذہن متاثر ہوجائے گا اور قیامت کی سختویں کے مقابلہ میں وہ دنیا میں اپنے قایم کی مدت کو کم سمجھیں گے اور ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت اور آخرت کے منکروں کے احوال بیان فرمائے ہیں۔ وہ لوگ کہتے تھے کہ اتنے بڑے بڑے، بلند وبالا اور ہیبت ناک پہاڑ زمین پر قائم ہیں، ان کے ہوتے ہوئے زین کیسے تباہ ہوگی ؟ نیز وہ کہتے تھے کہ اگر واقعی دنیا فنا ہوگی تو چاہیے کہ دنیا بہ تدریج کم ہوتی چلی جائے پھر آخر میں فنا ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان سے کہیے جن پہاڑوں کو تم وقوع قیامت سے مانع اور اس کی رکاوٹ سمجھتے ہوئے ان کو میرا رب ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا اور زمین کو کھلے ہوئے ہموار میدان کی حالت میں چھوڑ دے گا۔

نسف کا معنی 

اس آیت میں ہے ’ دینسفھا ربی نسفا “ نسف کا معنی ہے بکھیر کر اڑا دینا، نسفتہ کا معنی ہے جلا ہوا سیاہ پتھر۔ نسیف کا معنی ہے پیشانی اور تھیلی کی شکن، نسوف کا معنی ہے گھاس کو جڑ سے اکھاڑ دنیے والا اونٹ، فرس نسوف کا معنی ہے سم سے زمین کو اکھاڑ کر غبار اڑانے والا گھوڑا، عقبتہ نسوف : دشوار گزار گھاٹی، نسف اور نسوف نصر کے باب سے ہو تو اس کا معنی ہے کاٹنا اور ضرب کے باب سے ہو تو اس کا معنی ہے بنیاد اکھاڑنا۔ پہاڑ کھودنا، پہاڑ کھود کو برابر کرنا، ریزہ ریزہ کر کے اڑا دینا۔ خاک اڑانا۔ (المفردات ج ٢ ص 634، مکہ مکرمہ 1418 ھ القاموس المحیط ج ٣ ص 287-288 بیروت، 1412 ھ) 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 105