أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَلَا يُحِيۡطُوۡنَ بِهٖ عِلۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

اس کو وہ سب معلوم ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور لوگوں کے پیچھے ہے اور لوگ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس کو وہ سب معلوم ہے جو لوگ کے آگے ہے اور لوگوں کے پیچھے ہے اور لوگ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ (طہ :110)

لوگوں کے آگے اور لوگوں کے پیچھے کی تفسیر 

لوگوں کے آگے اور لوگوں سے مراد آرت کے احوال اور لوگوں کے پیچھے سے مراد ہے دنیا کے احوال، یعنی اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کو وہ سب بھی معلوم ہے جو آخرت میں انہیں ان کے اعمال کی جزا ملے گی۔

(٢) مجاہد نے کہا ان کے آگے سے مراد ہے ان کے دنیاوی معاملات اور ان کے اعمال اور ان کے پیچھے سے مراد ہے ان کا ثواب یا عتاب۔

(٣) ضحاک نے کہا اس سے مراد ہے جو کچھ ہوگا اور جو کچھ ہونے والا ہے اور یہ کہ قیامت کب آئے گی۔ اور لوگ اس کا احاطہ نہیں کرسکتے اس کی بھی حسب ذیل تفسیریں ہیں :

(١) بندے نہیں جانتے کہ ان کے آگے کیا پیش ہونے والا ہے اور وہ اپنے پیچھے کیا احوال اور کیا اعمال چھوڑ آئے ہیں۔

(٢) بندے اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 110