أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّتَخَافَـتُوۡنَ بَيۡنَهُمۡ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا عَشۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے تو صرف دس دن ٹھہرے تھے

طہ :103 میں فرمایا : وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے تم صرف دس دن ٹھہرے تھے۔ وہ چپکے چپکے اس لئے باتیں کریں گے کہ رعب اور دہشت سے ان کے دل بہت خوف زدہ ہوں گے یا اس لئے کہ وہ خوف اور دہشت سے بہت کم زور ہوچکے ہوں گے اور ان میں بلند آواز سے بولنے کی طاقت نہیں رہے گی۔

انہوں نے جو کہا تھا کہ تم صرف دس دن ٹھہرے تھے آیا اس سے مراد یہ تھی کہ تم دنیا میں صرف دس دن ٹھہرے تھے۔ یا ان کی مراد یہ تھی کہ تم قبر میں صرف دس دن ٹھہرے تھے۔ حسن قتادہ اور ضحاک نے یہ کہا ان کی مراد یہ ہوگی کہ تم دنیا میں صرف دس دن ٹھہرے تھے۔ انہوں نے اس مراد پر اس آیت سے استدلال کیا ہے :

قال کم لیتم فی الارض عدد سنین قالوا یشنایوماً او بعض یوم قسئل العآدین (المومنون :112-113) اللہ دریافت فرمائے گا تم زمین میں کتنے برس شمار کر کے رہے تھے وہ کہیں گے ہم ایک دن یا ایک دن سے کم رہے تھے آپ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے۔

قیامت کے ہولناک واقعات اور اس دن کی سختویں سے ان کے حافظہ پر اثر پڑے گا اور ان کو یاد نہیں رہے گا کہ وہ کتنا عرصہ دنیا میں رہے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب انسان تکلیف اور پریشانی میں وقت گزارتا ہے تو خوشی کے گزارے ہوئے دن اس کو بہت کم معلوم ہوتے ہیں۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ ان کو علم ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں کتنا وقت گزارا ہے۔ لیکن جب وہ دنیا میں اپنی گزاری ہوئی عمروں کا آخرت کے تکلیف دہ اور عذاب والے ایام سے مقابلہ کریں گے تو ان کو دنیا کی زندگی بہت کم معلوم ہوگی اس لئے وہ کہیں گے دنیا میں تو ہم نے صرف دس دن گزارے تھے اور جو ان میں زیادہ عقل مند ہوگا وہ کہے گا ہم نے تو دنیا میں صرف ایک ہی دن گزارا تھا، تیسری وجہ یہ ہے کہ جب وہ آخرت کی سختویں کو دیکھیں گے تو وہ دنیا میں راحت اور خوشی میں گزارے ہوئے ایام یاد کریں گے اور ان گزرے ہوئے دنوں پر افسوس کریں گے اور ان دنوں کو کم شمار کریں گے کیونکہ خوشی کے ایام جلد گزر جاتے ہیں اور کم ہوتے ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد قبر میں ٹھہرنے کی مدت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو قبر میں زندہ کیا اور عذاب دیا پھر انکو روز قیامت میں فنا کردیا پھر ان کو روز حشر میں پھر زندہ کر کے اٹھایا تو پھر ان کو یاد نہیں رہے گا کہ وہ قبر میں کتنی مدت رہے تھے۔ پھر بعض کافروں کے دل میں آئے گا کہ وہ دس دن رہے تھے اور بعض کے دل میں آئے گا کہ وہ صرف ایک دن رہے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 103