أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِى الصُّوۡرِ‌ وَنَحۡشُرُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ يَوۡمَئِذٍ زُرۡقًا‌ ۞

ترجمہ:

جس دن میں صور میں پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اٹھائیں گے اس دن ان کی آنکھیں نیلگوں ہوں گی

طہ :102 میں فرمایا : جس دن میں صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو اکٹھا کیا جائے گا اس دن ان کی آنکھیں نیلگوں ہوں گیں۔ صور سے مراد وہ نرسنگا ہے جس میں حضرت اسرافیل اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھونک ماریں گے تو قیامت واقع ہوگی (مسند احمد ج ٢ ص 191) ایک اور حدیث میں ارشاد ہے اسرافیل قرن کو منہ لگائے کھڑا ہے۔ پیشانی جھکائی یا موڑی ہوئی ہے اور رب کے حکم کا منتظر ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے اور وہ اس میں پھونک مارے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :243) دو متربہ صور پھونکا جائے گا۔ پہلی بار صور پھونکنے سے قیامت آجائے گی اور ساری مخلوق فنا ہوجائے گی اور دوسری بار صور پھونکنے سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے اور سب لوگوں کو میدان حشر کی طرف لے جایا جائے گا اور اس آیت میں یہی صور مراد ہے کیونکہ اس کے بعد فرمایا ہے اور مجرموں کو اکٹھا کیا جائے گا اس دن ان کی آنکھیں نیلگوں ہوں گی۔

مجرموں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کی آنکھیں پتھرا کر نیلگوں ہوجائیں گی، ازہری نے کہا پیاس کی شدت سے ان کی آنکھیں نیلگوں ہوجائیں گی۔ زجاج نے کہا پیاس کی شدت سے ان کی آنکھوں کی پتلیوں کی سیاہی متغیر ہو کر نیلگوں ہوجائے گی۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی۔ ایک اور جگہ فرمایا ہے وہ اندھے ہو کر اٹھیں گے۔

ونحشرھم یوم القیمۃ علی وجوھھم عمیاً وبکماً و صماً (بنی اسرائیل :97) ہم ان لوگوں کو قیامت کے دن اوندھے منہ اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔

ایک اور آیت میں فرمایا ہے :

انما یوخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار (ابراہیم :42) اللہ انہیں صرف اس دن کے لئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہی جائیں گی۔

بہ ظاہر ان آیتوں میں تعارض ہے۔ کسی آی میں فرمایا ہے ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی، کسی آیت میں فرمایا ہے وہ اندھے ہوں گے اور کسی آیت میں فرمایا ہے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، یہ دراصل قیامت کے مختلف احوال ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 102