اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُؕ-وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ(۸)

اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے (ف۲۵) اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں (ف۲۶) اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے (ف۲۷)

(ف25)

نر مادہ ایک یا زیادہ و غیر ذالک ۔

(ف26)

یعنی مدّ ت میں کس کا حمل جلد وضع ہوگاکس کا دیر میں ۔ حمل کی کم سے کم مدّت جس میں بچہ پیدا ہو کر زندہ رہ سکے چھ ماہ ہے اور زیادہ سے زیادہ دو سال ۔ یہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے فرمایا اور اسی کے حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ قائل ہیں ۔ بعض مفسِّرین نے یہ بھی کہا ہے پیٹ کے گھٹنے بڑھنے سے بچہ کا قوی ، تام الخِلقت اور ناقص الخِلقت ہونا مراد ہے ۔

(ف27)

کہ اس سے گھٹ بڑھ نہیں سکتی ۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ(۹)

ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا (ف۲۸)

(ف28)

ہر نقص سے منزّہ ۔

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ(۱۰)

برابر ہیں جو تم میں بات آہستہ کہے اور جو آواز سے اور جورات میں چھپا ہے اور جو دن میں راہ چلتا ہے(ف۲۹)

(ف29)

یعنی دل کی چھپی باتیں او رزبان سے بَاعلان کہی ہوئی اور رات کو چھپ کر کئے ہوئے عمل اور دن کو ظاہر طور پر کئے ہوئے کام سب اللہ تعالٰی جانتا ہے کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ۔

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْؕ-وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗۚ-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ(۱۱)

آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے اور پیچھے (ف۳۰) کہ بحکمِ خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں (ف۳۱) بےشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود(ف۳۲)اپنی حالت نہ بدل دیں اور جب اللہ کسی قوم سے برائی چاہے (ف۳۳) تو وہ پھر نہیں سکتی اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں (ف۳۴)

(ف30)

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ تم میں فرشتے نوبت بہ نوبت آتے ہیں ، رات اور دن میں اور نمازِ فجر اور نمازِ عصرمیں جمع ہوتے ہیں ، نئے فرشتے رہ جاتے ہیں اور جو فرشتے رہ چکے ہیں وہ چلے جاتے ہیں ، اللہ تعالٰی ان سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ نماز پڑھتے پایا اور نماز پڑھتے چھوڑا ۔

(ف31)

مجاہد نے کہا ہر بندے کے ساتھ ایک فرشتہ حفاظت پر مامور ہے جو سوتے جاگتے جن و انس اور موذی جانوروں سے اس کی حفاظت کرتا ہے اور ہر ستانے والی چیز کو اس سے روک دیتا ہے بجز اس کے جس کا پہنچنا مشیت میں ہو ۔

(ف32)

مَعاصی میں مبتلا ہو کر ۔

(ف33)

اس کے عذاب و ہلاک کا ارادہ فرمائے ۔

(ف34)

جو اس کے عذاب کو روک سکے ۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ(۱۲)

وہی ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو (ف۳۵) اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے

(ف35)

کہ اس سے گر کر نقصان پہنچانے کا خوف ہوتا ہے اور بارش سے نفع اٹھانے کی امید یا بعضوں کو خوف ہوتا ہے جیسے مسافروں کو جو سفر میں ہوں اور بعضوں کو فائدہ کی امید جیسے کہ کاشتکار وغیرہ ۔

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖۚ-وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِۚ-وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ(۱۳)

اور گرج اسے سراہتی(خدا کی تعریف کرتی) ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے (ف۳۶) اور فرشتے اس کے ڈر سے (ف۳۷) اور کڑک بھیجتا ہے (ف۳۸) تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں(ف۳۹)اور اس کی پکڑ سخت ہے

(ف36)

گرج یعنی بادل سے جو آواز ہوتی ہے اس کے تسبیح کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس آواز کا پیدا ہونا خالِق ، قادر ، ہر نقص سے منزّہ کے وجود کی دلیل ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ تسبیحِ رعد سے وہ مراد ہے کہ اس آواز کو سن کر اللہ کے بندے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔ بعض مفسِّرین کا قو ل ہے کہ رعد ایک فرشتہ کا نام ہے جو بادل پر مامور ہے اس کو چلاتا ہے ۔

(ف37)

یعنی اس کی ہیبت و جلال سے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔

(ف38)

صاعقہ وہ شدید آواز ہے جو جَوّ ( آسمان و زمین کے درمیان ) سے اترتی ہے پھر اس میں آ گ پیدا ہو جاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ اپنی ذات میں ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ (خازن)

(ف39)

شانِ نُزول : حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافِر کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنے اصحاب کی ایک جماعت بھیجی ، انہوں نے اس کو دعوت دی کہنے لگا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا ربّ کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو ، کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا یا لوہے کا یا تانبے کا ؟ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے واپس ہو کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ایسا اکفر ، سیاہ دل ، سرکش دیکھنے میں نہیں آیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس پھر جاؤ ، اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا اور کہا کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت قبول کرکے ایسے ربّ کو مان لوں جسے نہ میں نے دیکھا نہ پہچانا ۔ یہ حضرات پھر واپس ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور اس کا خُبث تو اور ترقی پر ہے ، فرمایا پھر جاؤ ، بہ تعمیل ارشاد پھر گئے جس وقت اس سے گفتگو کر رہے تھے اور وہ ایسی ہی سیاہ دلی کی باتیں بک رہا تھا ، ایک ابر آیا اس سے بجلی چمکی اور کڑک ہوئی اور بجلی گری اور اس کافِر کو جلادیا ۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو راہ میں انہیں اصحابِ کرام کی ایک اور جماعت ملی وہ کہنے لگے کہیے وہ شخص جل گیا ، ان حضرات نے کہا آپ صاحبوں کو کیسے معلوم ہوگیا ؟ انہوں نے فرمایا سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی آئی ہے۔” وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَآ مَنْ یَّشَآءُ وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہ ِ ” (خازن) بعض مفسِّرین نے ذکر کیا ہے کہ عامر بن طفیل نے اربد بن ربیعہ سے کہا محمّدِ مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس چلو میں انہیں باتوں میں لگاؤں گا تو پیچھے سے تلوار سے حملہ کرنا ، یہ مشورہ کرکے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عامر نے حضور سے گفتگو شروع کی بہت طویل گفتگو کے بعد کہنے لگا کہ اب ہم جاتے ہیں اور ایک بڑا جرّار لشکر آپ پر لائیں گے یہ کہہ کر چلا آیا ، باہر آکر اربد سے کہنے لگا کہ تو نے تلوار کیوں نہیں ماری ؟ اس نے کہا جب میں تلوار مارنے کا ارادہ کرتا تھا تو تُو درمیان میں آجاتا تھا ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے نکلتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ ”اَللّٰھُمَّ اکْفِہِمَا بِمَا شِئْتَ ” جب یہ دونوں مدینہ شریف سے باہر آئے تو ان پر بجلی گری اربد جل گیا اورعامر بھی اسی راہ میں بہت بدتر حالت میں مرا ۔ (حسینی)

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّؕ-وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖؕ-وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ(۱۴)

اسی کا پکارنا سچا ہے (ف۴۰) اور اس کے سوا جن کو پکارتے ہیں (ف۴۱) وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے (ف۴۲) اور وہ ہرگز نہ پہنچے گااور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے

(ف40)

یعنی اس کی توحید کی شہادت دینا اور لا اِلٰہ الا اللہ کہنا یا یہ معنٰی ہیں کہ وہ دعا قبول کرتا ہے اور اسی سے دعا کرنا سزا وار ہے ۔

(ف41)

معبود جان کر یعنی کُفّار جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں ۔

(ف42)

تو ہتھیلیاں پھیلانے اور بلانے سے پانی کنوئیں سے نکل کر اس کے منہ میں نہ آئے گا کیونکہ پانی کو نہ علم ہے نہ شعور جو اس کی حاجت اور پیاس کو جانے اور اس کے بلانے کو سمجھے اور پہچانے ، نہ اس میں یہ قدرت ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کرے اور اپنے مقتضائے طبیعت کے خلاف اوپر چڑھ کر بلانے والے کے منہ میں پہنچ جائے ۔ یہی حال بتوں کا ہے کہ نہ انہیں بُت پرستوں کے پکارنے کی خبر ہے نہ ان کی حاجت کا شعور نہ وہ ان کے نفع پر کچھ قدرت رکھتے ہیں ۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩(۱۵)

اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے (ف۴۳) خواہ مجبوری سے (ف۴۴) اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام (ف۴۵)

(ف43)

جیسے کہ مومن ۔

(ف44)

جیسے کہ منافق و کافِر ۔

(ف45)

ان کی تبعیت میں اللہ کو سجدہ کرتی ہیں ۔ زُجاج نے کہا کہ کافِر غیر اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور اس کا سایہ اللہ کو ۔ ابنِ انباری نے کہا کہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالٰی پرچھائیوں میں ایسی فہم پیدا کرے کہ وہ اس کو سجدہ کریں ۔ بعض کا قول ہے سجدے سے سایہ کا ایک طرف سے دوسر ی طرف مائل ہونا اور آفتاب کے ارتفاع و نُزول کے ساتھ دراز و کوتاہ ہونا مراد ہے ۔ (خازن)

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-قُلِ اللّٰهُؕ-قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّاؕ-قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ ﳔ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ ﳛ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْؕ-قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(۱۶)

تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا تم خود ہی فرماؤ اللہ (ف۴۶) تم فرماؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنالیے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں (ف۴۷) تم فرماؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا (ف۴۸) یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا (ف۴۹) کیا اللہ کے لیے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا (ف۵۰) تم فرماواللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے (ف۵۱) اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے (ف۵۲)

(ف46)

کیونکہ اس سوال کا اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں اور مشرکین باوجود غیر اللہ کی عبادت کرنے کے اس کے مقِر ہیں کہ آسمان و زمین کا خالِق اللہ ہے ۔ جب یہ امر مسلّم ہے تو ۔

(ف47)

یعنی بُت جب ان کی یہ بے قدرتی و بیچارگی ہے تو وہ دوسرے کو کیا نفع و ضَرر پہنچاسکتے ہیں ۔ ایسوں کو معبود بنانا اور خالِق رازق قوی و قادر کو چھوڑنا انتہا درجے کی گمراہی ہے ۔

(ف48)

یعنی کافِر و مومن ۔

(ف49)

یعنی کُفر و ایمان ۔

(ف50)

اور اس وجہ سے کہ حق ان پر مشتبہ ہوگیا اور وہ بُت پرستی کرنے لگے ، ایسا تو نہیں ہے بلکہ جن بتوں کو وہ پوجتے ہیں اللہ کی مخلوق کی طرح کچھ بنانا تو کجا وہ بندوں کے مصنوعات کے مثل بھی نہیں بناسکتے ، عاجزِ مَحض ہیں ایسے پتھروں کا پوجنا عقل و دانش کے بالکل خلاف ہے ۔

(ف51)

جو مخلوق ہونے کی صلاحیت رکھے اس سب کا خالِق اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو دوسرے کو شریکِ عبادت کرنا عاقل کس طرح گوارا کرسکتا ہے ۔

(ف52)

سب اس کے تحتِ قدرت و اختیار ہیں ۔

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًاؕ-وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ﱟ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءًۚ-وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ(۱۷)

اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رَوْ(دھار) اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی اور جس پر آ گ دہکاتے ہیں (ف۵۳) گہنا(زیور) یا اور اسباب (ف۵۴) بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے تو جھاگ توپُھک کر دور ہوجاتا ہے اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے (ف۵۵) اللہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے

(ف53)

جیسے کہ سونا چاندی تانبہ وغیرہ ۔

(ف54)

برتن وغیرہ ۔

(ف55)

ایسے ہی باطل اگرچہ کتنا ہی ابھر جائے اور بعض اوقات و احوال میں جھاگ کی طرح حد سے اونچا ہو جائے مگرانجامِ کار مٹ جاتا ہے اور حق اصل شے اور جوہرِ صاف کی طرح باقی و ثابت رہتا ہے ۔

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىﳳ-وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ﳔ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠(۱۸)

جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا اُنہیں کے لیے بھلائی ہے (ف۵۶) اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا(ف۵۷) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی مِلک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کودے دیتے یہی ہیں جن کا بُرا حساب ہوگا (ف۵۸) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور کیا ہی برا بچھونا

(ف56)

یعنی جنّت ۔

(ف57)

اور کُفر کیا ۔

(ف58)

کہ ہر امر پر مواخذہ کیا جائے گا اور اس میں سے کچھ نہ بخشا جائے گا ۔ (جلالین و خازن)