الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر 343

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اذان بہترین لوگ دیں اور تمہاری امامت قاری لوگ کریں ۱؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی مؤذن متقی پرہیزگار اور نماز کے اوقات جاننے والا چاہیے کیونکہ لوگوں کی نمازیں،افطار،سحریاں کھانا پینا اس کی اذان سے وابستہ ہیں، نیز یہ اکثر اذان کے لیے اوپر چڑھتا ہے جس سے کبھی لوگوں کے گھروں میں نظر پڑ جاتی ہے۔خیال رہے کہ مؤذن میں عالم ہونے کی قید نہیں کیونکہ مؤذن دوسرے کے علم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر امام دوران نماز میں دوسرے کے علم سے استفادہ نہیں کرسکتا، دیکھو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے لیے حضرت بلال کو منتخب فرمایا حالانکہ علماءصحابہ موجود تھے۔