أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِىۡ غَفۡلَةٍ مُّعۡرِضُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور وہ پھر بھی غفلت میں پڑے ہوئے اعراض کر رہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لوگو کے حساب کا وقت قریب آگیا اور وہ پھر بھی غفلت میں پڑے ہوئے اعرضا کر رہے ہیں ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آتی ہے وہ اس کو کھیل کود کے مشغلہ ہی میں سنتے ہیں ان کے دل کھیل کود میں ہیں، اور ظالموں نے آپس میں یہ سرگوشی کی یہ شخص تو تمہاری ہی مثل بشر ہے کیا تم جانتے بوجھتے جادو کے پاس جا رہے ہو (الانبیاء :1-3)

موت یا قیامت آنے سے پہلے نیکیاں کرنے کے متعلق احادیث 

لوگوں نے دنیا میں جو کچھ بھی عمل کئے ہیں، ان کے حساب کا وقت آپہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے جسموں ان کے بدنوں ان کے کھانے پینے کی چیزوں ان کے لباس اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لئے جو نعمتیں ان کو عطا فرمائی ہیں ان نعمتوں کے مقابلہ میں عبادات پیش کرنے کا وقت آپہنچا ہے، ان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ ان نعمتوں کے بدلہ میں انہوں نے کیا عبادتیں کی ہیں، آیا جن چیزوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا وہ ان کو بجا لائے اور جن کاموں سے ان کو منع کیا تھا ان سے باز رہے ؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے جو معاملہ کرنے والا تھا اس کی انہوں نے کوئی تیار کی تھی یا وہ دنیا کے عیش و آرام میں منہمک رہے اور اس دن کے متعلق انہوں نے بالکل غور و فکر نہیں کیا۔

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص ایک دیوار بنا رہا تھا، جس دن یہ سورت نازل ہوئی اس دن اس کے پاس سے ایک شخص گزرا، دیوار بنانے والے شخص نے پوچھا آج قرآن میں کیا نازل ہوا ہے، اس نے بتایا یہ آیت نازل ہوئی ہے : لوگوں کے حساب کا وقت آگیا اور وہ پھر بھی غفلت میں پڑے ہوئے اعراض کر رہے ہیں، اس شخص نے اس دیوار سے اسی وقت ہاتھ جھاڑ لئے اور کہا اللہ کی قسم ! جب حساب کا وقت قریب آگیا ہے تو پھر یہ دیوار نہیں بنے گی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١ ۃ ص 177، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی جھونپڑی کو درست کر رہے تھے، آپ نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا یہ جھونپڑی ٹوٹ پھوٹ رہی تھی تو ہم اس کو بنا رہے ہیں، (اس خدشہ سے کہ اس کی چھت گر نہ جائے) آپ نے فرمایا، اجل سے سے بھی پہلے آنے والی ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2335، مصنف ابن ابی شیبہ ج 13 ص 218، مسند احمد ج ٢ ص 161 سنن ابودائود رقم الحدیث :5235، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 4160، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :2996، شرح السنتہ رقم الحدیث :4030)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منشاء یہ ہے کہ گھر کی مرمت اور اصلاح سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرلو، تم گھر کی اصلاح کرتے رہو اور کیا پتا گھر تیار ہونے سی پہلے موت آجائے۔

اس معنی میں یہ حدیث ہے : حضرت انس بن مالک (رض) کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے تو آپ نے ایک اونچا گنبد دیکھا، آپ نے پوچھا، یہ کس کا ہے ؟ آپ کے اصحاب نے کہا یہ انصار میں سے فلاں شخص کا ہے، آپ خاموش ہوگئے اور اس کو دل میں رکھ لیا، حتیٰ کہ جب وہ گنبد بنانے والا شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اعراض کرنے کی آثار دیکھے، اس نے اپنے اصحاب سے اس کی شکایت کی اور کہا اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدلا ہوا پا رہا ہوں، اس کے اصحاب نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے تو آپ نے تمہارا بنایا ہوا گنبد دیکھا تھا، وہ شخص واپس اپنے گنبد کی طرف گیا اور اس کو گرا دیا حتیٰ کہ اس کو زمین کے برابر کر یا۔ پھر ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے تو اس گنبد کو نہیں دیکھا پوچھا وہ گنبد کہاں گیا ؟ صحابہ نے کہا اس شخص نے ہم سے آپ کے منہ موڑنے کی شکایت کی تھی ہم نے اس کو اس کی خبر دی تو اس نے اس گنبد کو گرا دیا تو آپ نے فرمایا ہر عمارت اس کے بنانے والے پر وبال ہے سو اتنی مقدار کے جس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث :5237، اتحاف ج ٩ ص 362، کنز العمال رقم الحدیث :20724، تاریخ کبیرج ١ ص 87 ج 9 ص 45)

اس حدیث کا منشاء یہ ہے کہ جب لوگ بڑی بڑی اور بلند عمارتیں بنانا شروع کردیں گے تو ان کا دل دنیا کی زیب وزینت اور دنیا کی چمک دمک میں لگا رہے گا اور وہ اللہ کی عبادت کرنے اور اس کی یاد سے غافل ہوجائیں گے، انسان دنیا کی جتنی زیادہ نعمتوں سے فائدہ اٹھائے گا قیامت کے دن ان نعمتوں کے مقابلہ میں اتنی زیادہ عبادتیں پیش کرنی ہوں گی۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری اور دنیا کی مثال اس طرح ہے جس طرح کوئی سوار ہو وہ کسی گرم دن میں ایک دخت کے نیچے تھوڑی دیر قیلولہ کر کے آرام کرے اور پھر اس کو چھوڑ دے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص 217، مسند احمد ج ١ ص 191، سنن الترمذی رقم الحدیث :2377، مسند ابویعلی رقم الحدیث :4998 المستدرک ج ١ ص 310 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4109) اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا : دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہو یا اس طرح جیسے کوئی شخص کوئی راستہ بعور کر رہا ہو، اور حضرت ابن عمر کہتے تھے کہ جب تم شام کو پائو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کو پائو تو شام کا اتنظار نہ کروص کیا پتا کس وقت موت آجائے) اور اپنی صحت کے ایام میں بیماری کے ایام کے لئے نیک عمل کرلو، اور اپنی زندگی میں موت کے لئے نیک عمل کرلو (تاکہ جب تم مرض کی وجہ سے عمل نہ کرسکو تو صحت میں کئے ہوئے عمل تم کو نفع دیں) (صحیح البخاری رقم الحدیث :6416، سنن الترمذی رقم الحدیث :4114، مسند احمد ج ٢ ص 24 مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ۃ ص 217 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :698 سنن کبریٰ للبیقہی ٣ ص 369)

اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ دنیا کی طرف میلان اور رغبت نہ کرو اور اس کو اپنے رہنے کے لئے وطن نہ بنائو اور اپنے دل میں یہ منصوبہ بنائو کہ تم نے یہاں پر ہمیشہ رہنا ہے اور دنیا سے صرف اتنا تعلق رکھو جتنا مسافر دوران سفر کسی جگہ سے اپنا تعلق رکھتا ہے یہ حدیث دنیا سے فراغت حاصل کرنے اور دنیا میں زھد اور بےرغبتی اور دنیا کو حقیر جاننے اور جو کچھ تمہایر پاس ہے اسی پر قناعت کرنے کی اصل ہے جس طرح مسافر راستے میں کسی جگہ دل نہیں لگاتا اور اس کو وطن پہنچنے کی لگن ہوتی ہے تم بھی دنیا میں کسی جگہ دل نہ لگائو اور آخرت کی لگن رکھو۔

ابن جعدہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے حضرت خباب (رض) کی عیادت کی اور کہا آپ کو خوش خبری ہ، اے ابو عبداللہ ! آپ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حوض پر حاض رہوں گے۔ حضرت خباب نے کہا یہ کیسے ہوگا ؟ حالانکہ یہ اس گھر کی نچلی منزل ہے اور اس کے اوپر بھی ایک منزل ہے ! حالانکہ ہم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا کہ تمہارے لئے دنیا کی رف اتنی چیز کافی ہے جتنی مسافر کے پاس سفر میں خرچ کرنے کے لئے کوئی چیز ہوتی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص 219 حلیتہ الاولیاء ج ١ ص 145 مسند الحمیدی ج ١ ص 83)

حضرت معاویہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ کی عیادت کرنے گئے تو وہ رو رہے تھے، حضرت معاویہ نے ان سے کہا : اے میرے ماموں آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا آپ کو درد کی وجہ سے تکلیف ہو رہی ہے یا دنیا پر حرص کی وجہ سے رو رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا اس میں کوئی بات نہیں ہے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو یہ نصیحت کی تھی اے ابو ہاشم ! شاید تمہارے پاس وہ مال آئے گا جو دوسری قوموں کو دیا گیا ہے، تمہارے پاس اس مال میں سے اتنا کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں سفر کرنے کے لئے ایک سواری ہو، اور اب میں اپنا حال دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کرلیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ۃ ص 219، مسند احمد ج ٣ ص 443)

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) حضرت سلمان کی عیادت کرنے کے لئے گئے تو وہ رونے لگے، حضرت عسد نے کہا اے عبداللہ ! آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ حالانکہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا تو وہ آپ سے راضی تھے ! آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کریں گے اور ان کے پاس حوض پر حاضر ہوں گے، انہوں نے کہا میں موت سے گھبرا کر نہیں رو رہا اور نہ دنیا کی حرص پر رو رہا ہوں، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو یہ نصیحت کی تھی کہ تمہارے پاس فقط اتنا مال ہونا چاہیے جتنا ایک مسافر کے پاس سفر خرچ ہوتا ہے اور اب میرے اردگرد یہ تکیے لگے ہئے ہیں، ان کے اردگرد تکیہ تھا، ٹب تھا اور وضو کا سامان تھا، حضرت سعد نے کہا اے ابو عبداللہ ! آپ ہم کو نصیحت کیجیے، جس پر ہم آپ کے بعد عمل کریں حضرت سلمان نے کہا جب تم کو کوئی پریشانی ہو، اور جب تم کوئی فیصلہ کرو اور جب تم مال تقسیم کرو تو اللہ کو یاد کرو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص 220 المستدرک ج ٤ ص 317، حلیتہ الاولیاء ج ١ ص 195)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا اگر علماء اپنے علم کی حفاظت کرتے اور جو علم کا اہل ہو اسی کو تعلی میدتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے، لیکن انہوں نے اپنے علم کو دنیا کے حصول کے لئے دنیا داروں پر خرچ کیا تو وہ دنیا داروں کی نظر میں بےوقعت ہوگئے اور میں نے تمہارے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے تمام تفکرات کو صرف ایک فکر بنادیا اللہ اس کی آخرت کی فکر کے لئے کافی ہوگا اور جس شخص نے بہت سے تفکرات میں اور دنیا کے احوال میں اپنے آپ کو مبتلا کرلیا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں ہے کہ وہ کون سی وادی میں جا گرتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ۃ ص 221 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :257)

ام الولید بنت عمر بیان کرتی ہیں کہ ایک شام کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو ! تم حیا نہیں کرتے ! ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کس چیز سے ؟ آپ نے فرمایا تم اس چیز کو جمع کرتے ہو جن کو تم کھاتے نہیں ہو اور ان مکانوں کو بناتے اور جن میں تم رہتے نہیں ہو اور تم ان چیزوں کی امید رکھتے ہو جن کو تم حاصل نہیں کرسکتے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٥ ص 172، حافظ الہیثمی نے کہ کا اس کی سند میں الوازع بن نافع متروک ہے، مجمع الزوائد رقم الحدیث :18043)

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رض) روزہ دار تھے، ان کے پاس (افطار کے وقت) کھانا لایا گیا انہوں نے کہا حضرت معصب بن عمیر (رض) شہید ہوگئے وہ مجھ سے بہتر تھے، ان کو صرف ایک چادر میں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو ان کے پیر کھل جاتے اور اگر ان کے پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا اور حضرت حمزہ (رض) شہید ہوگئے وہ مجھ سے افضل تھے، پھر ہم پر دنیا بہت کشادہ کردی گئی اور ہم کو دنیا کو وہ مال و متاع ملا جو ملا، اور ہم ڈر رہے ہیں کہ ہماری نیکیوں کا اجر ہم کو دنیا میں ہی دے دیا گیا ہے، پھر انہوں نے رونا شروع کردیا اور کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1275، المسند الجامع رقم الحدیث :9573)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے آنے سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپا آنے سے پہلے، صحت کو بیماری آنے سے پہلے، خوشحالی کو ف قرآن ے سے پہلے فرصت کو مشغول ہونے سے پہلے اور زندگی کو موت آنے سے پہلے۔

حاکم نے کہا یہ حدیث امام بخاری اور امام سملم کی شرط کے موافق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک رقم الحدیث :7916)

ان احادیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور مال و دو ت کو بالکل حاصل نہیں کرنا چاہیے اگر انسان کے پاس مال و دولت نہ ہو تو اس پر زکوۃ اور عشر کیسے فرض ہوگا۔ قربانی کس طرح واجب ہوگی اور حج کیونکر فرض ہوگا۔ ان احادیث کا منشا یہ ہے کہ انسان مال و دولت کے حصول میں اس طرح مستغرق نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھول جائے، انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مال کو خرچ کرتا رہے اور حقوق العباد کو ادا کرتا رہے تو دنیاوی مال و متاع بھی اس کے لئے باعث اجر وثواب ہے۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رض) بہت عظیم تاجر تھے ان کے پاس بہت مال تھا ایک دن وہ حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس گئے اور کہا اے میری ماں ! مجھے ڈر ہے کہ مال کی کثرت کہیں مجھے ہلاک نہ کر دے، حضرت ام سلمہ نے فرمایا اے میرے بیٹے مال کو خرچ کرو۔

زہری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اپنے مال میں سے چار ہزار دینار صدقہ کئے، پھر چالیس ہزار دینار صدقہ کئے، پھر چالیس ہزار دینار صدقہ کئے، پھر پانچ سو گھوڑے سامان لاد کر اللہ کی راہ میں دیئے، پھر دوبارہ پانچ سو اونٹنیاں اللہ کی راہ میں دیں اور ان کا عام مال تجارت کے ذریعہ سے تھا۔

زہری نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے وصیت کی تھی کہ شہداء بدر میں سے جو صحابہ باقی ہیں ان میں سے ہر ایک کو چار سو دینار دیئے جائیں وہ تعداد میں سو صحابہ تھے ان میں سے ہر ایک کو چار سو دینار دیئے گئے، حضرت عثمان بھی ان میں سے تھے اور انہوں نے ایک ہزار گھوڑے اللہ کی راہ میں دینے کی وصیت کی تھی۔ (اسد الغابہ ج ٣ ص 478-479، رقم : 3370 مطبوعہ دارالکتب العربیہ، بیروت)

یوم حساب اگر قریب ہے تو اب تک آچکا ہوتا 

اس آیت پر ایک یہ اشکال ہوتا ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے یوم حساب قریب ہے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کو بھی چودہ صدیاں گزر چکی ہیں ابھی تک تو قیامت آئی نہیں، اس اشکال کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) اللہ تعالیٰ نے اپنے اعتبار سے یوم حساب کو قریب فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو ایک دن بھی ایک ہزا رسال کا ہوتا ہے :

(الحج :47) اور یہ آپ سے عذاب کو جلد طلب کر رہے ہیں اور اللہ اپنی وعید کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا اور بیشک آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے۔

(٢) ہر وہ چیز جس کا آنا یقینی اور حتمی ہو اس کے متعق کہا جاتا ہے کہ وہ قریب ہے۔ 

(٣) جب کسی چیز کی میعاد کا اکثر حصہ گزر جائے تو پھر کہا جاتا ہے کہ وہ قریب ہے، تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے گزر جانے کے بعد قیامت آنی تھی اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء (علیہم السلام) اب تک گزر چکے ہیں اور اب صرف ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت رہ گئی ہے اس لئے آپ اور آپ کی امت کے لحاظ سے اب یوم حساب قریب آچکا ہے۔ حضرت انس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح (ساتھ ساتھ) بھیجے گئے ہیں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث 6504 صحیح مسلم رقم الحدیث :2951، سنن الترمذی رقم الحدیث :2214، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4040-45 سنن النسائی رقم الحدیث :1577، مسند احمد ج ٣ ص 124 سنن کبری للبیہقی ج ٣ ص 206، کنز العمال رقم الحدیث :38348 تہذیب تاریخ و مشق ج ٤ ص 199، مشکوۃ رقم الحدیث :1407)

اللہ تعالیٰ نے موت کا وقت معین فرمایا ہے اور نہ قیامت کا وقت معین فرمایا ہے، تاکہ انسان ہر وقت گناہ سے بچتا رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گناہ کر رہا ہو اور اسی وقت موت آجائے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے تاکہ اگر اس کو موت آئے تو اس وقت آئے جب وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کر رہا ہو۔ قیامت کے دن کو اللہ تعالیٰ نے یوم حساب سے اس لئے تعبیر فرمایا ہے تاکہ انسان روز قیامت سے ڈرتا رہے کہ اس دن اس کا حساب لیا جائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 1