أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلۡ قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍۢ بَلِ افۡتَـرٰٮهُ بَلۡ هُوَ شَاعِرٌ ‌ ۖۚ فَلۡيَاۡتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(کافروں نے) کہا یہ (قرآن) پریشان خوابوں کا بیان ہے، بلکہ اس کو انہوں نے خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہیں، ان کو کوئی نشانی لانی چاہیے، جیسے پہلے رسول لائے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (رسول اللہ نے) کہا : میرا رب آسمان اور زمین میں ہر بات کو خوب جانتا ہے اور وہ بہت سننے الا بےحد علم والا ہے۔ (کافروں نے) کہا یہ (قرآن) پریشان خوابوں کا بیان ہے، بلکہ اس کو انہوں نے خود گھڑ لیا ہے، بلکہ یہ شاعر ہیں، ان کو کوئی نشانی لانی چاہیے جیسے پہلے رسول لائے تھے۔ ان سے پہلے جس بستی والوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں کیا وہ ایمان لے آئے تھے ؟ جو یہ ایمان لے آئیں گے۔ (الانبیاء :4-6)

شعر کا معنی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم شعر کی تحقیق : 

کافروں نے آپ میں جو چپکے چپکے سرگوشی کی تھی، اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سرگوشی سے مطلع فرما دیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بتادیا کہ تم نے یہ سرگوشی کی ہے اور آپ نے ان کو یہ غیب کی خبر دی اور یہ آپ کا معجزہ ہے، پھر فرمایا کہ تم چھپ کر جو سرگوشیاں کرتے ہو ان کی میرے رب کو خبر ہے کیونکہ وہ آسمان اور زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے اور وہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جانے والا ہے، کفار نے کہا آپ جو قرآن پیش کرتے ہیں یہ آپ کے دیکھے۔ جیسا کہ نظم اور غزل میں ہوتا ہے اور شعر کا دوسرا معنی ہے جس کلام میں خیالی باتوں کو پیش کیا جائے جیسے غالب کا یہ شعر ہے : 

تصویر یار بہر نکیرین ساتھ ہے 

رکھنا میری قبر پر شیشہ گلاب کا 

اس کا معنی ہے میں اپنے کفن میں اپنے محبوب کی تصویر رکھ کرلے جاؤں گا جب منکر نکیر مجھ سے میرے اعمال کے متعلق سوال کریں گے تو میں ان کو یہ تصویر دکھاؤں گا کہ بتاؤ اتنے حسین شخص کو دیکھ کر انسان کوئی عمل کرنے کے قابل رہ سکتا ہے اور جب وہ اس تصویر کو دیکھیں گے تو بےہوش ہوجائیں گے سو تم میری قبر پر عرق گلاب کی بوتل رکھنا تاکہ میں ان بےہوش فرشتوں پر عرق گلاب چھڑک کر ان کو ہوش میں لاسکوں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب غالب کی خیال آرائی ہے واقع میں اس طرح نہیں ہوگا پس شعر کا معنی اپنے تصورات اور خیال آرائیوں کو پیش کرنا بھی ہے اور کفار عرب اسی معنی میں آپ کو شاعر کہتے تھے، کہ آپ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور لوگوں کے حساب و کتاب اور میزان پر وزن کرنے اور مومنوں کے لیے جنت کی بشارت اور جنت میں دودھ، شہد اور شراب کے دریاؤں کا، حوروں کا غلمان اور محلات کا ذکر کرتے ہیں اور کافروں کے لیے دوزخ کے عذاب کی خبر دیتے ہیں اور دوزخ کی ہولناکیوں کا بیان کرتے ہیں یہ سب آپ کے تصورات ہیں اور آپ کی خیال آرائیاں ہیں۔ حقیقت اور واقعہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

علامہ راغب اصفہانی متوفی ھ شعر کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

شعر کا معنی بال ہے اور بال بہت باریک اور دقیق ہوتا ہے، شعر کو بھی شعر اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا معنی بہت باریک اور دقیق ہوتا ہے اور عرف میں شعر اس کلام کو کہتے ہیں جو ایک ردیف اور قافیہ پر ہو، بعض محققین نے کہا ہے کہ کفار عرب آپ کو اس معنی کے لحاظ سے شاعر نہیں کہتے تھے، بلکہ بعض اوقات جھوٹ کو شعر سے اور جھوٹے شخص کو شاعر سے تعبیر کرتے ہیں، اسی وجہ سے قرآن مجید میں عام شعراء کے متعلق فرمایا ہے :

والشعرآء یتبعھم الغاون (الشعراء :224) اور شعراء کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ اور چونکہ شعر جھوٹ کی قرار گاہ ہوتا ہے اس لئے عرب کہتے ہیں کہ سب سے اچھا شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو اور کفار قریش اس معنی کے لحاظ سے آپ کو شاعر اور قرآن مجید کو شعر کہتے تھے۔ (المفرداتْ ١ ص 345، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ :1418 ھ)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی متوفی 1069 لکھتے ہیں :

کفار قریش نے کہا بلکہ یہ شاعر ہیں اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ یہ جو کلام پیش کر رہے ہیں یہ اشعار ہیں یعنی محض خیالی باتیں ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، کیونکہ اکثر اشعار میں خیالی باتیں ہوتی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی اس لئے عموما ً جھوٹے شخص کو شاعر کہا جاتا ہے اور قرآن مجید میں شعر کے اس معنی کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نفی کی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ ان ھو الا ذکر و قران مبین (یٰسین :69) اور ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھائے اور نہ وہ آپ کی شان کے لائق ہیں وہ تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے۔ (عنایتہ القاضی ج ٦ ص 418-419، ملحضاً مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ)

قرآن مجید نے آپ کے شاعر ہونے اور قرآن کریم کے شعری مجموعہ ہونے کی نفی کی ہے، قرآن مجید تو صرف ہدایت اور نصیحت ہے، شاعری میں بالعموم مبالغہ، افراط اور تفریط اور محض تخیلات کی تصویر کشی ہوتی ہے اور اس طرح اس کی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے آپ کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ آپ پر اشعار کی وحی کی ہے اور نہ شعر گوئی آپ کی شان کے لائق ہے۔ بعض اوقات آپ سے بلاقصد کلام موزون صادر ہوا مثلاً جنگ حنین کے دن آپ نے فرمایا :

انا النبی لا کذب ۔ انا ابن عبدالمطلب۔ میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4317، سنن الترمذی رقم الحدیث :1688، مسند احمد رقم الحدیث :18913 عالم الکتب) 

بعض غزوات میں آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا :

ھل انت الا اصبح دمیت و فی سبیل اللہ مالقیت و فی سبیل اللہ مالقیت۔ تم صرف ایک انگلی ہو جو زخمی ہوگئی ہے اور تم کو جو کچھ ملا ہے۔ اللہ کی راہ میں ملا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2802، صحیح مسلم رقم الحدیث :1796، سنن الترمذی رقم الحدیث :3345) 

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد نبوی کی تعمیر کرتے ہوئے فرمایا :

اللھم لاخیر الاخیر الاخرۃ فاغفر الا نصار والماجرہ اے اللہ اچھائی تو صرف آخرت کی اچھائی ہے، انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :428، صحیح مسلم رقم الحدیث :524، سنن ابودائود رقم الحدیث :453، سنن النسائی رقم الحدیث :702 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :742)

آپ سے یہ کلام موزوں بلا قصد صادر ہوا ہے یہ کلام اس معنی میں شعر نہیں ہے جس معنی میں اللہ تعالیٰ نے آپ سے شعر کے علم کی اور قرآن مجید کے شعر ہونے کی نفی کی ہے اور اس طرح کلام موزون تو قرآن مجید میں یہ بہ کثرت ہے۔ مثلاً سورة بروج، سورة اعلیٰ سورة غاشیہ اور سورة کوثر وغیرہ۔ نیز اس کلام کو منظم اور مقفی لانے کا قصد نہیں کیا گیا اور شعر وہ ہوتا ہے جس میں وزن کی موافقفت کا قصد کیا جائے۔

حضرت ابی ابن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بعض شعر حکمت ہوتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :6145، سنن ابودائود رقم الحدیث :5010 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3755 سنن دارمی رقم الحدیث، 2707) 

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ جس شعر اور رجز میں اللہ تعالیٰ کا ذک ہو اور اس کی تعظیم ہو اور اس کی وحدانیت کا بیان ہو اور اس کی اطاعت کرنے کی ترغیب ہو وہ اچھے شعر ہیں اور مرغوب ہیں اور حدیث میں جن اشعار کو حکمت فرمایا ہے اس سے مراد ایسے ہی اشعار ہیں اور جن اشعار میں جھوٹے اور بےحیائی کی باتیں ہوں وہ مذموم ہیں۔

اس میں اختلاف ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی شاعر کے اشعار پڑھے ہیں یا نہیں، صحیح یہ ہے کہ آپ نے ایسے اشعار پڑھے ہیں آپ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کے اشعار پڑھے ہیں آپ نے خود بھی کلام منظور پڑھا ہے۔ جیسے غزوہ حنین میں آپ نے پڑھا : انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب، لیکن آپ نے اس کلام کو ایک نظم اور ایک وزن پر لانے کا قصد نہیں کیا تھا لہٰذا یہ شعر نہیں ہے اور اس طرح کا کلام تو قرآن مجید میں بھی بہ کثرت ہے۔ (فتح الباری ج ١٢ ص 174-176 ملحضاً ملتقطاً مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1420 ھ)

کفار مکہ کے آپ کی نبوت پر چھ اعتراضات اور ان کے جوابات 

کفار مکہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر چھ اعتراضات کئے، پہلے یہ کہا کہ آپ بشر ہیں اور بشر ہونا رسول ہونے کے منافی ہے، دوسرا اعتراض یہ کیا کہ اگر بشر ہونا رسالت کے منافی نہ بھی ہو تب بھی یہ قرآن معجز کلام نہیں ہے، تیسرا اعتراض یہ کیا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ اس قرآن کی مثال بنا کر لانا طاقت بشر سے خارج ہے تو پھر یہ کلام سحر اور جادو ہے، چوتھا اعتراض یہ کیا کہ یہ قرآن اگر جادو نہیں ہے تو پھر یہ آپ کے پریشان خواب ہیں جن کو آپ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں، پھر پانچواں اعتراض یہ کیا کہ یہ کلام آپ نے خود گھڑ لیا ہے اور اس کو اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اور چھٹا اعتراض یہ کیا کہ بلکہ یہ آپ کی شاعری ہے۔

ان سے پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بشر ہونا رسالت کے منفای نہیں ہے بلکہ جب انسانوں اور بشر کے پاس رسول بھیجا جائے تو اس کا بشر ہونا ضروری ہے ورنہ اس سے استفادہ نہیں ہوسکتا۔ دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ قرآن آپ کی نبوت پر دلیل اور معجزہ ہے اور کفار قریش بلکہ کوئی بھی اس کی مثال نہیں لاسکتا ورنہ جو لوگ آپ کی تکذیب کے در پے تھے وہ اب تک اس قرآن کی مثال لا چکے ہوتے، تیسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ قرآن سحر اور جادو نہیں ہے کیونکہ سحر اور جادو شعبدہ اور نظر بندی پر مبنی ہوتا ہے اور قرآن مجید کے معجز کلام ہونے میں کسی شعبدہ، تلبیس اور نظر بندی کا دخل نہیں ہے، چوتھے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ قرآن خواب پریشان نہیں ہے، پریشان خواب ان خوابوں کو کہتے ہیں جو بےربط، خلط ملط اور غیر منضبط باتوں پر مشتمل ہوں اور قرآن مجید ایک مربوط اور منضبط کلام ہے، اس میں انسانی معیشت کا ایک جامع ضابطہ حیات بیان کیا گیا ہے اور دنیا اور آخرت کی فلاح اور کامیابی کے حصول کا ایک مکمل طریقہ بیان کیا گیا ہے یہ بےربط، خلط ملط اور غیر منضبط کلام نہیں ہے اور نہ بےتکی باتوں کا مجموعہ ہے، پانچویں اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ کلام جھوٹ اور من گھڑت نہیں ہے کیونکہ کفار مکہ اس بات کو مانتے تھے کہ آپ صادق اور امین ہیں اور جس نے کبھی بندوں پر جھوٹ نہ باندھا ہو وہ اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہے اور چھٹے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں نہ یہ قرآن شاعری ہے کیونکہ شعر میں خیال آرائی ہوتی ہے افراط اور مبالغہ ہوتا ہے اور واقع اور حقائق کے خل اف باتیں ہوتی ہیں اور قرآن مجید تو صرف ذکر اور نصیحت ہے اور آپ صادق اور امین ہیں آپ کا کلام جھوٹ نہیں ہے اور نہ آپ نے قافیہ اور ردیف کی موافقت کے قصدے سے یہ کلام بنایا ہے اس لئے شعر کی کسی تعریف کے اعتبار سے آپ شاعر ہیں نہ قرآن مجید شعری مجموعہ ہے۔

کفار عرب کے فرمائشی معجزات نہ بھیجنے کی وجوہ 

کفار مکہ نے کہا ان کو کوئی نشانی لانی چاہیے جیسے پہلے رسول لائے تھے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جیسے حضرت صالح (علیہ السلام) نے پتھر کی چٹان سے اونٹنی نکالی تھی اس طرح اونٹنی نکال کردکھائیں یا جس طرح حضرت موسیٰ نے لاٹھی کو اژدھا بنادیا تھا اس طرح لاٹھی کو اژدھا بنا کردکھائیں، یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح مردے زندہ کر کے دکھائیں، اس کا جواب یہ ہے کہ ان انبیاء (علیہم السلام) کے معجزے بہت عظیم تھے لیکن وہ محدود وقت کے لئے تھے، جب تک وہ نبی اس دنیا میں رہے ان کے معجزے بھی رہے اور جب وہ نبی دنیا سے چلے گئے تو ان کے معجزے بھی ان کے ساتھ جاتے رہے، اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت قیامت تک رہے گی اس لئے آپ کو ایسا معجزہ دیا ہے جو قیامت تک قائم اور باقی رہے گا، قرآن کا معجزہ یہ ہے کہ اس کی کوئی نظیر اور مثال نہیں لاسکے گا اور قیامت تک کوئی ایسا نہیں کرسکے گا اور قرآن مجید کا معجزہ یہ ہے کہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہو سکے گی اور قیامت تک کوئی قرآن مجید میں کمی یا زیادتی نہیں کرسکے گا۔

دوسرا جواب یہ ہے اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ، یہ ہے جب کوئی قوم کسی معجزہ کی فرمائش کرے اور اس کی فرمائش پوری کردی جائے اور وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ ایک ہمہ گیر عذاب بھیج کر اس قوم کو ملیا ملیٹ کردیتا ہے اور صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے اور کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ صفحہ ہسی سے مٹانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس کو علم تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوجائیں گے یا ان سے ایسی اولاد پیدا ہوگی جو مسلمان ہوجائے گی اور تیسری وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اور آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل کرنا اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ تھا۔

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 5

القرآن – سورۃ نمبر 21 الأنبياء آیت نمبر 5