حدیث نمبر 342

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تین آدمی ہوں تو ان میں ایک امام بن جائے ان میں امامت کا زیادہ حقدار قاری ہے ۱؎(مسلم)اور مالک ابن حویرث کی حدیث فضل اذان کے بعد والے باب میں بیان ہوگی۲؎

شرح

۱؎ یعنی اگرچہ قاری عالم کا امام بننا افضل ہے لیکن اگر ان کے سوا کوئی اور بھی امام بن گیا تو نماز ہوجائے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ افضل کے ہوتے مفضول کا امام بننا جائز ہے۔اس جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ اگرچہ مفضول امام بن جائے مگر افضل پیچھے رہ کر بھی اس سے افضل ہے،دیکھو بلال جنت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے آگے جائیں گے مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہو کر۔

۲؎ اس میں یہ ذکر تھا کہ تم میں اذان کوئی کہہ دے مگر امامت بہتر آدمی کرے،وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی میں نے وہاں بیان کی۔