حدیث نمبر 347

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی جو کسی قوم کے آگے کھڑا ہوجائے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے یہ کہ فوت ہونے کے بعد آئے ۱؎ اور وہ شخص جو کسی آزاد کو غلام بنالے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی نماز قضا کردینے یا بلاوجہ جماعت چھوڑ دینے کا عادی ہوگیا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ جماعت واجب ہے اس کے چھوڑنے کی عادت فسق ہے۔

۲؎ مُحَرَّرَۃً رَقَبَۃًپوشیدہ کی صفت ہے،۔آزاد کو غلام بنانے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ ظلمًا آزاد کو پکڑ کر غلام بنالیا جائے جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ کے ساتھ کیا۔دوسرے یہ کہ اپنے غلام کو خفیہ طور پر آزاد کرکے پھر غلام بنالیا جائے۔غلام ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکے،ایسے ظالم کی نماز کیسے قبول ہوسکتی ہے۔چونکہ عرب میں اسلام سے پہلے اس قسم کی حرکتیں عام ہوتی تھیں اس لیے یہ وعید ارشاد فرمائی گئی۔