’’صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن‘‘ 

پر کام اور اس کی خصوصیات کا بیان

دائرۂ اسلام میں داخل ہونے والے سب مسلمانوں کی زبان عربی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمان اپنی اپنی علاقائی اور مادری زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں اور قرآنِ مجید کی تفاسیر کا زیادہ تر ذخیرہ چونکہ عربی زبان میں ہے اس لئے اہلِ عرب کے علاوہ دیگر علاقوں میں مقیم مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان تفاسیر سے استفادہ نہیں کر سکتی، اسی ضرورت و حاجت کے پیش نظر معتبر علمائِ کرام نے اکابرین کی لکھی ہوئی عربی تفاسیر اور علومِ اسلامیہ پر مشتمل دیگر قابلِ اعتماد کتابوں سے کلام اخذ کر کے دیگر زبانوں میں تفاسیر کی کتابیں ترتیب دیں تاکہ وہاں کے مسلمان بھی قرآنِ مجید کی روشن تعلیمات اور اس کے احکامات سے آگاہی حاصل کریں اور انہی حالات کی وجہ سے پاک و ہند میں بھی فارسی اور اردو میں بیشتر علمائِ کرام نے تفاسیر لکھیں جن میں سے شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی فارسی زبان میں لکھی گئی تفسیر’’فتحُ العزیز‘‘ صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اردو زبان میں لکھی گئی مختصر تفسیر ’’خزائنُ العرفان‘‘ اور حکیمُ الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تفسیر ’’نورُ العرفان‘‘ سرِ فہرست ہیں ، اور اب اسی فہرست میں ایک خوبصورت اور اہم اضافہ ’’صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن‘‘ کے نام سے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کی چند خصوصیات درجِ ذیل ہیں :

(1)…قرآنِ مجید کی ہر آیت کے تحت دو ترجمے ذکر کئے گئے ہیں ، ایک اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بے مثل اور شاہکار ترجمہ ’’کنز الایمان ‘‘ ہے اور دوسرا موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آسان اردو میں کیا گیا ترجمہ ’’ کنز العرفان ‘‘ ہے جس میں زیادہ تر’’ کنز الایمان ‘‘ سے ہی استفادہ کیا گیا ہے ۔

(2)…قدیم و جدید تفاسیر اور دیگر علومِ اسلامیہ پر مشتمل معتبر اور قابلِ اعتماد علمائِ کرام بالخصوص اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی لکھی ہوئی کثیر کتابوں سے کلام اخذ کر کے سوائے چند ایک مقامات کے باحوالہ کلام لکھا گیا، نیز ان بزرگوں کے ذکر کردہ کلام کی روشنی میں بعض مقامات پراپنے انداز اور الفاظ میں کلام ذکر کیا گیا ہے۔

(3)…کتب ِ تفاسیر سے حوالہ جات ڈالنے میں ہر جگہ بعینہ عبارتوں کا ترجمہ کرنے کا التزام نہیں کیا گیا بلکہ بہت سی جگہوں پر خلاصہ کلام نقل کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے، اور جہاں ایک بات کئی تفسیروں سے نقل کی گئی ہے وہاں اس تفسیر کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے زیادہ تر مواد لیا گیا ہو۔

(4)… صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا شاہکار تفسیری حاشیہ ’’خزائن العرفان‘‘ تقریباً پورا ہی اس تفسیر میں شامل کر دیا گیا ہے اور ا س کے مشکل الفاظ کو آسان الفاظ میں بدل کر کلام کی تخریج اور تحقیق بھی کر دی گئی ہے ۔نیز مفتی احمد یارخان نعیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حاشیہ’’ نور العرفان‘‘ سے بھی بہت زیادہ مدد لی گئی ہے اور اس کے بھی اکثروبیشتر حصے کو معمولی تبدیلیوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

(5)… فی زمانہ عوامُ الناس بہت طویل اور علمی و فنی ابحاث پر مشتمل تفاسیر پڑھنے اور سمجھنے میں بہت دشواری محسوس کرتے ہیں ،اسی طرح مختصر حواشی سے بھی انہیں قرآنی آیات کا معنی و مفہوم سمجھنے میں بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے،ان کی اس پریشانی کو سامنے رکھتے ہوئے ’’صِرَاطُ الْجِنَان فِیْ تَفْسِیْرِ الْقُرْآن‘‘ میں اس بات کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ تفسیر نہ زیادہ طویل ہو اور نہ ہی بہت مختصربلکہ متوسط اور جامع ہو ،نیز اس میں ان علمی اور فنی ابحاث سے گریز کیا گیا ہے جنہیں جاننے میں عوام الناس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں البتہ جہاں آیت کی تفہیم کے لئے جس علمی اور فنی بحث کی ضرورت تھی وہاں اسے حتّی الامکان آسان انداز میں ذکر کرنے کی کوشش ضرورکی گئی ہے ۔

(6)…اردو کی مشکل تَراکیب کی بجائے آسان الفاظ و تراکیب کاا ستعمال کیا گیا ہے تاکہ کم پڑھے لکھے حضرات بھی اس سے آسانی کے ساتھ استفادہ کر سکیں اور قرآنِ مجید کی تعلیمات اور احکام کوسمجھ کر ان پر عمل کر سکیں۔

(7)…قرآنِ مجید میں جہاں شرعی احکام و مسائل کا بیان ہوا وہاں تفسیر میں ضروری مسائل آسان انداز میں بیان کئے گئے ،جہاں اعمال کی اصلاح کا ذکر ہوا وہاں اصلاحِ اعمال کی ترغیب وترہیب ،جہاں معاشرتی برائیوں کا تذکرہ ہوا وہاں ان سے متعلق اور جہاں جہنم کے عذابات اور جنت کے انعامات کا ذکر ہوا وہاں عذابِ جہنم سے بچنے اور جنتی نعمتوں کے حصول کی ترغیب پر مشتمل مضامین لکھے گئے ہیں ، نیزباطنی امراض سے متعلق بھی قدرے تفصیل سے کلام کیا گیاہے۔

(8)…اسلامی حسنِ معاشرت سے متعلق امور جیسے والدین ،رشتہ داروں ، یتیموں اور پڑوسیوں وغیرہ کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے سے متعلق بھی بہت سا اصلاحی مواد شامل کیا گیا ہے۔

(9)… مختلف مقامات پر عقائد ِاہلسنّت اور معمولات ِاہلسنّت کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے اور موقع و مقام کی مناسبت سے معاشرے میں رائج برائیوں کی قرآن و حدیث کی روشنی میں مذمت بیان کی گئی ہے۔

(10)…حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی سیرتِ مبارکہ خاص طور پر بیان کی گئی اور صحابۂ کرام رَضِیَاللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور اولیائِ عظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکی سیرت و واقعات بھی ذکر کئے گئے ہیں۔

(11)…آیات سے حاصل ہونے والے نکات اور معلوم ہونے والی اہم اور ضروری باتوں کو ذکر کیا گیا ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تفسیر کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور اسے تمام مسلمانوں کے لئے دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے نفع بخش بنائے اور اسے مصنف و معاونین کے لئے ذریعہ نجات بنائے۔اٰمین