أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَكَلَا مِنۡهَا فَبَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰ تُہُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَـنَّةِ‌ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى‌ۖ ۞

ترجمہ:

پس ان دونوں نے اس درخت میں سے کھالیا سو ان دونوں کے ستر کھل گئے اور وہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنے ستر کو ڈھانپنے لگے اور آدم نے (بہ ظاہر) اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ لغزش میں مبتلا ہوگئے

” عصی ادم ربہ فغوی “ سے حضرت آدم کی عصمت پر اعتراض اور امام رازی کی طرف سے اس کا جواب 

اس آیت :121 میں ہے فعصی ادم ربہ اس کا لفظی معنی ہے پس آدم نے اپنے رب کی معصیت (نافرمانی) کی۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں عصا کا معنی ہے لاٹھی، عصیان کی اصل ہے اپنی لاٹھی کے سبب سے کسی کام سیم نع کرنا اور اس کا معنی ہے اطاعت سے باہر نکلنا۔ (المفردات : ج ٢ ص 438، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

امام رازی لکھتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت کے منکرین کہتے ہیں کہ عاصی اس شخص کو کہتے ہیں جو گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے اور جو اپنے فعل کی وجہ سے سز سزا کا مستحق ہو اور عصیان کی مذمت کی جاتی ہے اور اس پر وعید ہے قرآن مجید میں ہے :

(النساء :14) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے اللہ اس کو دوزخ میں داخل کر دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔

اور غویٰ کا مصدر ہے غوایت، اور غوایت اور ضلالت دونوں مترادف ہیں اور غی، رشد اور ہدایت کی ضد ہے اور اس قسم کے لفظ کا اطلاق اسی شخص پر کیا جاتا ہے جو فاسق ہو اور اپنے فسق میں مستغرق ہو۔

پھر علماء نے اس استدلال کے جواب میں کہا معصیت کا معنی ہے امر کی مخالفت کرنا اور امر کبھی وجوب کے لئے ہوتا ہے اور کبھی استحباب کے لئے ہوتا ہے اور حضرت آدم پر جو معصیت کا اطلاق ہے اس کا معنی ہے انہوں نے ایک مستحب کام کو ترک کردیا نہ یہ کہ انہوں نے کسی واجب کو ترک کیا، لیکن اس آیت سے استدلال کرنے والوں نے اس جواب کو رد کردیا اور کہا ہے کہ ظاہر قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ معصیت کا مرتکب عتاب اور سزا کا مستحق ہوتا ہے اور عرف میں بھی عاصی کا لفظ بہ طور مذمت کے استعمال ہوتا ہی اور بعض علماء نے اس کے جواب میں کہا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت آدم نے معصیت صغیرہ کا ارتکاب کیا نہ یہ کہ معصیت کبیرہ کا ارتکاب کیا اور ابو مسلم اصفہانی نے یہ جواب دیا کہ حضرت آدم نے مصالح دنیا میں حکم کی مخالفت کی نہ کہ تکلیف شرعی میں اور دنیاوی مصلحتوں میں حکم کی مخالفت کرنا مباح ہے اور غویٰ کے لفظ کا یہ جواب دیا ہے کہ وہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہوگئے کیونکہ جب انہوں نے اپنے ملک کو دائما برقرار رکھنے کے لئے اس درخت سے کھایا تو ان کا ملک زائل ہوگیا اور ان کی کوشش ناکام ہوگئی اور وہ کامیب نہ ہو سکے تو کہا گیا غویٰ ، غویٰ ، رشد کی ضد ہے اور رشد کا معنی یہ ہے کہ کسی چیز کے وسیلہ سے مقصود تک پہنچا جائے اور جب مقصود کے بجائے اس کی ضد حاصل ہو تو کہا جاتا ہے غویٰ یعنی وہ ناکام اور نامراد ہوگیا اور بعض لوگوں نے یہ جواب دیا ہے کہ غویٰ کا معنی ہے بدہضمی یعنی بہ کثرت گندم کھانے سے انہیں بدہضمی سے اولیٰ اور ماندہ اعتراض کو جڑ سے اکھاڑنے والا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم سے یہ فعل اس وقت سر زد ہوا جب وہ نبی نہیں تھے اس کی تفصیل ہم نے البقرہ میں کی ہے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 108-109، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

سورة بقرہ کی تفسیر میں امام رازی نے پہلے عصمت انبیاء میں حسب ذیل مذاہب بیان فرمائے ہیں :

عصمت انبیاء میں مذاہب 

(١) حشویہ کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) کا عمداً گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنا جائز ہے۔

(٢) اکثر معتزلہ کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) سے کبائر کا صدور جائز نہیں ہے لیکن عمداً صغائر کا صدور جائز ہے، سو ان صغائر کے جن سے لوگ متنفر ہوں۔

(٣) انبیاء (علیہم السلام) سے بغیر سہو اور خطا کے گناہ کا صدور نہیں ہوسکتا، سہو اور خطا کے ساتھ ان سے گناہ کا صدور ہوسکتا ہے، لیکن ان سے ان پر مواخذہ ہوتا ہے اس کے برخلاف ان کی امتوں سے اگر ہو اور خطاء سے گناہ ہو تو ان سے مواخذہ نہیں ہوتا، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کے پاس معرفت کے دلائل بہت قوی اور بہت زیادہ ہیں اور دوسروں کی بہ نسبت وہ گناہوں سے اجتناب پر زیادہ قادر ہیں۔

(٥) روافض کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) سے صغیرہ یا کبیرہ گناہ صادر نہیں ہوتا نہ قداً نہ سہواً نہ تلاویلاً نہ خطاء۔ عصمت کے وقت میں عملائ کے تین قول ہیں :

(١) معتزلہ کے نزدیک ان کی عصمت کا وقت بالغ ہونے کے بعد ہے اور نبوت سے پہلے ان سے کفر اور کبیرہ کا ارتکاب جائز نہیں ہے۔

(٢) روا فض کا مذہب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اپنی ولادت کے وقت سے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔

(٣) ہمارے اکثر اصحاب کا مذہب او ابوالھذیل اور ابوعلی معتزلی کا مذہب اور ہمارا مختاریہ ہے کہ حال نبوت میں انبیاء (علیہم السلام) سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا نہ کبیرہ نہ صغیرہ۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص 455، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

اس تمہید کے بعد امام رازی ” عصی ادم ربہ فغوی ‘ کے جواب میں منکرین عصمت کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں :

ہم یہ کہتے ہیں کہ تمہارا کلام اس وقت مکمل ہوگا جب تم دلیل سے یہ ثابت کردو کہ حضرت آدم نے حال نبوت میں اس درخت سے کھایا تھا اور یہ ثابت نہیں ہے، یہ کیوں جائز نہیں ہے کہ حضرت آدم سے اس زلت (لغزش) کا صدور اس وقت ہوا ہو جب وہ نبی نہیں تھے اور اس زلت کے بعد ان کو نبی بنایا گیا۔ (تفسیر کبیرج ١ ص 459، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

عصیٰ ادم ربہ فغوی کے متعلق علامہ قرطبی مالکی کی تفسیر 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

اس میں علماء کا اتفاق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہیں کرتے، اور اس میں ان کا اختلاف ہے کہ آیا وہ گناہ صغیرہ کرتے ہیں جن سے ان کا مواخذہ ہوتا ہے اور ان پر اعتاب ہوتا ہے یا نہیں، اسی طرح اس پر بھی علماء کا اتفاق ہے وہ ایس ذلیل کام نہیں کرتے جس سے ان کی ذات پر نقص یا عیب لگے یا جس کی وجہ سے ان کی مذمت کی جائے اور لوگ ان سے متنفر ہوں، ہمارے نزدیک اس کی دلیل معجزہ ہے اور معتزلہ کے نزدیک اس کی دلیل عقل ہے۔ امام طبری اور دیگر فقہاء متکلمین اور محدثین نے کہا ہے کہ انبیاء علہیم السلام سے صغائر واقع ہوتے ہیں اس میں رافضیوں کا اختالف ہے وہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) تمام گناہوں سے معصوم ہیں۔

امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام شافعی، ان کے اصحاب اور جمہور فقہاء اور محدثین کا یہ مذہب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) جس طرح کبائر سے معصوم ہوتے ہیں اسی طرح صغائر سے بھی معصوم ہوتے ہیں، کیونکہ ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم انکے افعال، ان کے آثار اور ان کی سیرتوں کی اتباع کریں اور یہ حکم مطلق دیا گیا ہے اس میں کوئی استثناء نہیں ہے اور نہ کسی قرینہ کے التزام کا ذکر ہے، اگر ہم انبیاء (علیہم السلام) سے صغائر کے وقوع کو جائز قرار دیں تو ان کی اقتداء کرنا ممکن نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے افعال میں سے ہر فعل اس سے متمیز نہیں ہے کہ وہ عبادت ہے یا اباحت ہے یا ممنوع ہے یا معصیت ہے، اور نہ کسی شخص کو یہ حکم دینا صحیح ہوگا کہ وہ ان کے کسی حکم پر عمل کرے کیونکہ ہوسکتا ہے ان کا وہ حکم معصیت ہو۔

قاضی ابو اسحاق اسفرائنی نے کہا کہ صغائر کے ارتکاب میں اختلاف ہے اور اکثر کا مختاریہ ہے کہ ان سے صغائر کا صدور جائز نہیں ہے اور بعض نے جائز کہا ہے اور اس قول کی کوئی اصل نہیں ہے۔

بعض متاخرین نے پہلے قول کو اختیار کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بعض گناہوں کے وقوع کی خبر دی ہے اور ان کو انبیاء (علیہم السلام) کی طرف منسوب کیا ہے اور ان کی وجہ سے انبیاء علہیم السلام پر عتاب کیا ہے اور خود انبیاء علیہم نے بھی ان گناہوں کے وقوع کی خبر دی اور ان سے ڈرے اور ان پر توبہ کی اور یہ تمام امور بہت جگہ وارد ہیں اور یہ مجموعی طور پر تاویل کو قبول نہیں کرتے اگرچہ فرداً فرداً تاویل کو قبولک رتے ہیں اور ان تمام امو سے ان کے مناصب میں کمی نہیں ہوتی اور یہ کام ان سے شاذ اور نادر طور پر خطا اور نسیان سے واقع ہوئے ہیں یا انہوں نے یہ کام کسی تاویل سے کئے ہیں کیونکہ کبھی وزیر سے اس کام پر گرفت کی جاتی ہے جس کام سر سائیس کو انعام دیا جاتا ہے، اس وجہ سے وہ میدان حشر میں امن امان اور سلامتی ملنے کے باوجود ان کاموں کے ارتکاب سے ڈرتے رہیں گے اور یہ قول حق ہے اور جنید نے کیا خوب کہا ہے کہ ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک گناہ ہوتی ہیں اور ہرچند کہ بعض نصوص ان سے گناہوں کے وقوع پر شاہد ہیں لیکن اس سے ان کے مناصب پر طعن نہیں ہوگا اور نہ ان کے مراتب میں کوئی کمی ہوگی بلکہ انہوں نے ان گناہوں کی تلافی کرلی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بزرگی دی اور ان کو ہدایت دی اور ان کی مدذح کی اور ان کا تزکیہ کیا اور ان کو پسند کیا اور ان کو فضیلت دی۔ صلوت اللہ علیھم وسلامہ (الجامع لاحکام القرآن جزا ص 291-292 مطبوعہ دا الفکر بیروت 1415 ھ)

اور علامہ قرطبی و عصی ادم ربہ غفوی کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

فغویٰ کا معنی ہے ان کی زندگی کا عیش و آرام جاتا رہا اور ان کی زندی خراب ہوگئی، غی کا ایک معنی ضلالت اور گمرایہ ہوتا ہے اور دوسرا منی فساد ہے اور یہاں پر یہی معنی مرامد ہے، نقاش، قشیری اور استاذ ابوجعفر نے بھی یہی مراد لیا۔ یعنی جب وہ جنت سے ابہر آگئے تو جنت کے عیش و آرام کے بجائے ان کو محنت اور مشقت کی زندگی گزارنی پڑی اور وہ مشقت میں پڑگئے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 168، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

عصی ادم ربہ فغوی کے متعلق علامہ آلوسی کی تفسیر 

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

حضرت آدم نے اس درخت سے کھانے کی ممانعت میں اپنے رب کی معصیت کی اور ان کا جو مطلوب تھا کہ ان کو دائمی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہو اس سے بھٹک گئے یعنی اس کو نہ پاس سکے۔ یہ اس صورت میں ہے جب غوی کا معنی ضلالت کیا جائے اور غوی کا معنی فسا بھی ہے یعنی انکی زندگی میں جنت سے آنے کے بعد محنت، مشقت اور تھکاوٹ ہوگئی عیش و آرام جاتا رہا اور وہ مشقت میں پڑے گئے۔

علامہ تفتازانی نے شرح المقاصد میں ذکر کیا ہے کہ حضرت آدم سے جو یہ کام صادر ہوا یہ نبوت سے پہلے تھا اور اس کا صدور سہویا تاویل سے ہوا، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان پر گرفت فرمائی کیونکہ ان کا مقام بہت بلند تھا اور ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت فضل اور حاسان تھا اور ان جیشے شخص کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہر وقت یاد رکھنا چاہیے تھا تاکہ سہو اور نسیان کی نبوت نہ آتی اور مشہر ہے کہ نیک لوگوں کی نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک گناہ ہوتی ہیں۔ (روح المعانی جز ١٦ ص 401-402 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ)

عصی ادم ربہ فغوی کے متعلق سید مودودی کی تسیر 

سید ابوالاعلی مودودی متوفی 1399 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یہاں اس بشری کمزوری کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے جو آدم (علیہ السلام) سے ظہور میں آئی (الی ان قال) بس ایک فوری جذبہ نے جو شیطانی تحریص کے زیر اثر ابھر آیا تھا، ان پر ذہول طاری کردیا اور ضبط نفس کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ طاعت کے مقام بلند سے معصیت کی پستی میں جا گرے، یہی وہ ” بھول “ اور ” فقدان عزم “ ہے جس کا ذکر قصہ کے آغاز میں کیا گیا تھا اور اسی چیز کا نتیجہ وہ نافرمانی اور بھٹک ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن ج ٣ ص 133، مطبوعہ لاہور، 1983 ء)

سید مودودی کی تفسیر پر مصنف کا تبصرہ 

سید مودودی نے اپنی اس عبارت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف معصیت کی پستی میں جا گرنے، نافرمانی اور بھٹکنے کی نسبت کی ہے، جب کہ علماء اور مفسرین کا اسپر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کی آیت یا کسی حدیث کے ترجمہ کے بغیر از خود حضرت آدم کی طرف معصیت اور بھٹکنے کی نسبت کرنا جائز نہیں ہے۔

علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ المعروف بابن العربی ا لمتوفی 543 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

مولیٰ اور مالک کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے بندہ اور غلام کے متعلق کہے ’ دعصیٰ “ اس نے میری نافرمانی کی، اور پھر اس پر اپنے فضل سے رجوع کرے اور کہ ہے وہ تنزیہہ کو بھول گئے اور ہم میں سے کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کی خبر بیان کرتے ہئے کہے انہوں نے معصیت اور نافرمانی کی ماسوا اس صورت کے کہ وہ اس آیت یا حدیث کا ترجمہ بیان کرے، اور رہا یہ کہ ہم اپنی طرف سے اس واقعہ کا بیان کریں، تو جب ہمارے لئے یہ جائز نہیں کہ ہم اپنے آباء کو گناہ گار کہیں حالانکہ وہ حضرت آدم کی بہ نسبت بہت ادنیٰ درجہ کے ہیں تو ہمارے لئے یہ کس طرح جائز ہوگا کہ ہم حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق ایسا کہیں جو ہمارے سب سیمقدم باپ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مکرم نبی ہیں۔ جن کی اللہ توبہ قبول فرما چکا ہے اور ان کی مغفرت کرچکا ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص 259 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1408 ھ)

علامہ ابوعبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی 754 ھ اور عالمہ آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ نے بھی اس عبارت کو نقل کر کے اس پر اعتماد کیا ہے اور اس سے استدلال کیا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 167-168 مطبوعہ بیرت، البحر المحیط ج ٧ ص 392، بیروت، روح المعانی، جز 16 ص 402، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ)

علامہ ابن الحاج مالکی متوفی 737 ھ لکھتے ہیں :

ہمارے علماء رحمتہ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ جس شخص نے قرآن مجید کی تلاوت کے بغیر یا کسی حدیث کے بغیر، انبیاء میں سے کسی نبی کے متعلق یہ کہا کہ اس نے معصیت کی (اللہ کی نافرمانی کی) یا اللہ کی مخالفت کی تو وہ کافر ہوگیا، نعوذ باللہ من ذالک اس کے بعد انہوں نے علامہ ابن العربی کی مذکور الصدر عبارت نقل کر کے اس سے استدلال کیا ہے۔ (المدخل ج ٢ ص ١٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ باقی مفسرین نے وعصی ادم ربہ فغوی کی تفسیر میں اس آیت کی توجیہ کی ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی عصمت کو ثابت کیا اور ان کی گناہ سے برأت کو بیان کیا ہے اور سید ابوالاعلی مودودی نے اس آیت سے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تنقید کی ہے اور لکھا ہے کہ ” وہ طاعت کے مقام بلند سے معصیت کی پستی میں جاگرے، انا للہ وانا الیہ راجعون !

وعصی ادم ربہ فغوی کے متعلق مصنف کی تفسیر 

ہمارے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) سے اعلان نبوت سے پہلے اور اعلان نبوت کے بعد عمداً گناہ کبیرہ صادر نہیں ہوتا، اس نسیان اور اجتہادی خطاء سے صغائر کا ارتکاب ہوسکتا ہے خواہ نبوت سے پہلے ہو یا نبوت کے بعد اور سورة طہ کی زیر تفسیر آیت میں جو وارد ہے وعصی ادم ربہ : آدم نے اپنے رب کی معصیت (نافرمانی) کی، سو یہ اطلاق ظاہری اور صوری اعتبار سے ہے اور یہ حقیقتاً گناہ نہیں ہے نہ صغیرہ اور نہ کبیرہ، کیونکہ گناہ کی تعریف ہے یہ ہے کہ اپنے قصد اور اختیار سے اللہ تعالیٰ کے امر اور حکم کے خلاف کوئی کام کیا جائے اور اگر بھولے سے کوئی کام اللہ کے حکم کے خلاف کیا جائے تو وہ گناہ نہیں ہے، جیسے انسان رمضان کے روزہ میں بھول کر کھا پی لے تو یہ گناہ نہیں ہے بلکہ اس کا روزہ بھی نہیں ٹوٹتا، اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت آدم نے بھول کر اس درخت سے کھایا تھا یا قصداً اور عمداً کھایا تھا، قرآن مجید میں ہے :

ولقد عدھنا الی ادم من قبل فنسی ولم تجدلہ عزماً (طہ :115) اور بیشک اس سے پہلے ہم نے آدم سے عہد لیا تھا (کہ وہ اس درخت کے قریب نہ جائیں) پس وہ بھول گئے اور ہم نے ان کا صنافرمانی کرنے کا) قصد نہیں پایا۔

اور اس کو ظاہری اور صوری اعتبار سے معصیت اس لئے فرمایا کہ انہوں نے بہرحال اس درخت سے کھایا تھا خواہ ان کا قصد معصیت کا نہیں تھا اور انہوں نے چونکہ بھولے سے یہ فعل کیا تھا اس لئے یہ گناہ نہیں ہے اور نہ عصمت کے خلاف ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(طہ :120-121) پھر شیطان نے آدم کی طرف وسوسہ کیا کہا اے آدم کیا تمہیں (جنت میں) ہمیشہ رہیین کا درخت بتادوں اور ایسی بادشاہت جو کبھی کمزور نہ ہو، تو (آدم و حوا) دونوں نے اس درخت سے کھالیا سو ان کی ستر گاہیں کھل گیں اور وہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنا جسم چھپانے لگے۔

(الاعراف :20-21) اور شیطان نے کہا تم دونوں کو تمہارے رب نے اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے بن جائو یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جائو اور ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔

حضرت آدم نے اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کوئی جھوٹی نہیں کھا سکتا اور انہوں نے یہ اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تنزیہا منع کیا ہے اور یہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے تحریماً منع فرمایا تھا، یا انہوں نے یہ اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اس درخت سے منع فرمایا ہے میں اس نوع کے کسی اور درخت سے کھا لیتا ہوں، دونوں صورتوں میں ان کے اجتہاد کو خطاء لاحق ہوئی اور وہ یہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نوع شجر سے منع کیا تھا اور یہ واضح رہے کہ اجتہادی خطاء اور نساین عصمت کے منافی نہیں ہے اور باقی رہا ان کا عرصہ دراز تک توبہ اور استغفار کرنا تو یہ ان کا کمال تواضح اور انکسار ہے اور رہا یہ سوال کہ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیوں فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نیک انسانوں کی بعض نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک گناہ ہوتی ہیں اور اس لئے کہ اگرچہ یہ فعل حقیقت میں گناہ نہیں تھا لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) کا مقام اور مرتبہ بہت بلند تھا اس لئے ان کو اپنے متربہ کے لحاظ سے چاہیے تھا کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کو یاد رکھتے تاکہ بھولنے کی نوبت نہ آتی اور ہوا یہ کہ وہ بےلباس کیوں ہوگئے تو ہوسکتا ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ اس درخت سے کھانا بےلباس ہونے کا سبب ہو جیسے آگ جلانے کا سبب ہے اور زہر ہلاکت کا سبب ہے، اور ” فغوی “ کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس کا معنی گمراہ ونا بھی ہے اور خراب اور فاسد ہونا بھی ہے اور یہاں یہی دوسرا معنی مراد ہے کہ جنت سے آنے کے بعد ان کی زندگی کا عیش و آرام خراب ہوگیا اور ان کو کھانے پینے اور لباس پہننے کے لئے محنت اور مشقت کرنی پڑی۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت آدم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کا اپنے رب کے سامنے مباحثہ ہوا۔ پس حضرت آدم، حضرت موسیٰ پر غالب آگئے حضرت موسیٰ نے کہا آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کردیا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا، پھر آپ نے اپنی خطا سے لوگوں کو زمین پر اتار دیا، حضرت آدم نے کہا آپ وہ موسیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کی فضیلت دی اور آپ کو الواح عطا کیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور آپ کو قریب کر کے سرگوشی کی، آپ یہ بتایئے کہ میری تخلیق سے کتنا عرصہ پہلے اللہ تعالیٰ نے تورات کو لکھا تھا ؟ حضرت موسیٰ نے کہا چالیس سال پہلے ! حضرت آدم نے کہا کیا آپ نے تورات میں یہ لکھا ہوا دیکھا تھا عصی ادم ربہ فغوی (طہ :131) اور آدم نے اپنے رب کی معصیت کی تو وہ مشقت میں پڑگئے، حضرت موسیٰ نے کہا ہاں ! حضرت آدم نے کہا تو کیا آپ مجھے اس کام پر ملامت کر رہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے میرے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا، پھر حضرت آدم حضرت موسیٰ پر ملامت کر رہے ہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے میرے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا، پھر حضرت آدم حضرت موسیٰ پر غالب آگئے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث، 2652، الرقم المسلسل :6620 صحیح البخاری رقم الحدیث 3409)

حضرت آدم (علیہ السلام) کے کلام کی تشریح یہ ہے کہ اے موسیٰ ! آپ جانتے ہیں کہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے یہ لکھ دیا گیا تھا اور مقدر کردیا گیا تھا۔ اس لئے اس کا واقعہ ہونا واجب تھا اور اگر میں بلکہ ساری مخلوق مل کر بھی اللہ کے لکھے ہوئے سے ایک نقطہ کو بھی مٹانا چاہیں تو اس پر قادر نہیں ہیں، پھر آپ مجھے اس پر کیوں ملامت کر رہے ہیں اور اس لئے کہ گناہ پر ملامت کرنا شرعی امر ہے عقلی امر نہیں ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی توبہ قبول فرما لی اور ان کی مغفرت فرما دی تو ان سے ملامت زائل ہوگئی، اور اب ان کو جو ملامت کرے گا وہ شرعاً مغلوب ہوگا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر اب کوئی شخص گناہ کر کے یہ عذر پیش کرے کہ یہ گناہ تو میری تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا تو کیا اس کا عذر مقبول ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا عذر مقبول نہیں ہوگا کیونکہ وہ دارالتکلیف میں ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ اس گناہ پر توبہ کرے اور اس کی تلافی کرے ورنہ وہ اس گناہ کی سزا کا مستحق ہوگا، اور حضرت آدم بھی جب تک دارالتکلیف میں رہے اپنی اس ظاہری معصیت پر توبہ کرتے رہے اور اشک ندامت بہاتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور یہ گناہ کرنے والا دارالتکلیف میں باقی ہے اور اس پر مکلفین کے احکام جاری ہوں گے اس کو زجر و توبیخ اور ملامت کی جائے گی اور اس پر حد یا تعزیر ہوگی اور اس پر توبہ کرنا لازم ہے اور حضرت آدم نے تقدیر کا عذر اس وقت پیش کیا تھا جب وہ اس دارالتکلیف سے جا چکے تھے اس لئے اب ان کو ملامت کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور سوا ان کو ایذاء پہنچانے اور شرمندہ کرنے کے ان کو ملامت کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا اور جب انسان کسی گناہ سے توبہ کرلے تو اس کا گناہ باقی نہیں رہتا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا تو حقیقت میں کوئی گناہ بھی نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور ان کو عزت اور کرامت سے سرفراز فرمایا۔ اس لئے اب ان کو ملامت کرنے کی کیا وجہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 121