أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقُلۡنَا يٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوۡجِكَ فَلَا يُخۡرِجَنَّكُمَا مِنَ الۡجَـنَّةِ فَتَشۡقٰى‏ ۞

ترجمہ:

پس ہم نے آدم سے فرمایا : اے آدم ! یہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا دشمن ہے ایسا نہ ہو کہ یہ آپ دونوں کو جنت سے نکلوا دے، تو آپ مشقت میں پڑجائیں گے

جنت کی نعمتوں کی قدر دلانا 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایسا نہ ہو کہ یہ آپ کو جنت سے نکلوا دے تو آپ مشقت میں پڑج ائیں گے۔

مشقت سے مراد ہے تلاش معاش اور روزی کی طلب میں جدوجہد اور محنت اور مشقت کرنا جس کے نتیجہ میں انسان تھکاوٹ میں مبتلا ہوتا ہے، اور یہ محنت اور مشقت صرف مرد کرتا ہے عورتیں نہیں کرتیں اس لئے اس آیت میں صرف حضرت آدم کے متعلق فرمایا ہے ورنہ آپ مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے۔

امام ابن جوزی نے لکھا ہے کہ کھیتی باڑی کرنے، ہل چلانے اور دیگر اسباب معیشت سے جو مشقت اور تھکاوٹ حاصل ہوتی ہے اس سے وہ مراد ہے،

سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت آدم ایک سرخ بیل کے ساتھ ہل چلاتے تھے اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے تھے اور یہ ان کی مشقت تھی۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 117